جناح کا یومِ آزادی آج ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’اکثر ممالک کے لوگ یوم آزادی پر یہ سوچتے ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ہم اپنے یوم آزادی پر یہ سوچ رہے ہیں کہ آگے اور کیا ہونے والا ہے؟‘

یومِ آزادی پر تو بات ہوتی رہے گی پہلے ایک مسئلہ سلٹانے میں میری مدد کیجیے۔

یہ بتائیے کہ جب آپ ایک خربوزہ چھری سے کاٹتے ہیں تو کیا خربوزے کے ایک ساتھ ہی دو ٹکڑے ہوجاتے ہیں یا اس کا ایک ٹکڑا منگل کو کٹتا ہے اور دوسرا بدھ کو؟

آپ بھلے کہتے رہیں کہ یہ کیا پاگل پن کا سوال ہے مگر میرے لیے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے کوئی ہنسی ٹھٹھول نہیں۔

چلیے ایک مثال دیتا ہوں۔یہ تو آپ ہم سب جانتے ہیں کہ گوروں نے انڈین انڈی پینڈینس ایکٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان کو 1947 میں 14 اور 15 اگست کی بیچ کی رات آزاد کیا اور بارہ کا گجر بجتے ہی دو ملک وجود میں آ گئے۔

اب اگر ایک متحدہ خطے کو رات بارہ بجے دو حصوں میں بانٹا گیا تو پھر یہ کیسے ہوا کہ پاکستان اپنا یومِ آزادی 14 اور بھارت 15 اگست کو مناتا ہے۔

پاکستان بننے کے بعد قائدِ اعظم تیرہ مہینے زندہ رہے اور یہی سمجھتے رہے کہ پاکستان اور بھارت بالکل ایک ہی دن ایک ہی لمحےمیں آزاد ہوئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان ہر سال جناح صاحب کی آواز میں پہلے یومِ آزادی کا پہلا تہنیتی پیغام بہت باقاعدگی سے سنواتا ہے جس میں جناح صاحب کہہ رہے ہیں کہ پندرہ اگست کی آزاد صبح پوری قوم کو مبارک ہو۔

لیکن جناح صاحب کی یہ مبارک باد ہر سال پندرہ کے بجائے چودہ اگست کو ہی سنوائی جاتی ہے۔

جناح صاحب کی آنکھیں بند ہوتے ہی جانے کس نے چپکے سے آزادی کا گھڑیال پورے 24 گھنٹے پیچھے کر دیا۔

تب سے سب کچھ پیچھے ہوتا چلا گیا۔ اب 14 اگست ہی پاکستان کا یومِ آزادی ہے۔ نہ کوئی پوچھتا ہے نہ بتاتا ہے کہ کیوں بھئی آخر کیوں ؟

پر اب سمجھ میں آتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔

جناح صاحب نے کہا پاکستان میں جتنے بھی ہندو ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی وغیرہ ہیں سب کا حق نئے ملک پر برابر ہے۔ کس کا کیا دین دھرم ہے سرکار کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ہم نے سوچا انتھک محنت کرتے کرتے شاید بڑے میاں کا دماغ چل گیا ہے ۔اگر یہی کرنا تھا تو پاکستان کیوں بنایا ۔اور پھر جناح کے پاکستان کے اوپر ہم نے اپنی سہولت کا پاکستان بنا لیا۔

جناح صاحب نے کہا فوج کا کام صرف جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اور منتخب حکومتوں کے احکامات کی بجا آوری ہے۔ فوج کو سیاست سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔

ہم نے کہا یار جناح تم بھی کیا یاد کرو گے۔ یہ لو پہلا ، یہ دوسرا ، یہ تیسرا اور یہ رہا چوتھا مارشل لا۔

ملک بنانا اور بات ہے اسے چلانا اور بات۔ بس اپنی قبر میں آرام سے پڑے رہو۔ اب ہم جانیں اور تمہارا پاکستان اور اگر ہم صرف جغرافیائی سرحدوں کی ہی چوکیداری پر مامور رہیں گے تو نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کیا تم کرو گے ؟

آج کا پاکستان آزادی کے بعد جنم لینے والی اس نسل کے ہاتھ میں ہے جو ظاہری طور پر اپنے اجداد سے زیادہ خواندہ ہے، آس پاس کی دنیا کو زیادہ بہتر سمجھتی ہے، زیادہ جدید سوچ رکھنے کی دعویدار ہے۔

لیکن اس پیڑھی کے ہوتے ہوئے بھی ملک اس سے زیادہ رجعت پسند اور اندرونی و بیرونی طور پر غیر محفوظ محسوس ہوتا ہے جتنا 14 اگست 1947 کو تھا۔بلکہ 14 اگست کو تو سب لوگ یہی سوچ رہے تھے کہ پاکستان کو آسمان تک کیسے پہنچانا ہے لیکن آج انہی کی اولادیں سوچ رہی ہیں کہ اسے زمین میں اور دھنسنے سے کیسے روکنا ہے۔

اکثر قومیں یومِ آزادی پر سوچتی ہیں کہ آگے کیا کرنا ہے۔ہم اپنے یومِ آزادی پر سوچ رہے ہیں کہ آگے اور کیا کیا ہونے والا ہے ؟

اکثر ممالک میں سال کے کسی اور دن نہیں تو کم ازکم یومِ آزادی کے موقع پر ہی قومی اتحاد ، یگانگت ، بھائی چارے اور بہتر مستقبل کے حصول کی باتیں کی جاتی ہیں۔

بھلے تعبیر ملے نہ ملے خواب ضرور دیکھے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں یومِ آزادی کو خوف، بے یقینی، انارکی، جوتم پیزاری اور لٹھ پونگے کا استعارہ بنایا جا رہا ہے۔

آزادی کا ایسا مادر پدر مطلب شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے۔

ارے میں بھی باتوں باتوں میں جانے کہاں سے کہاں نکل گیا۔کہنا دراصل یہ چاہ رہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے لوگوں کو چودہ اور پندرہ اگست کی بہت بہت مبارک باد عقلِ سلیم کی دعا کے ساتھ پہنچے ۔

اسی بارے میں