’آزادی مارچ‘ کا لاہور سے سفر شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آزادی مارچ 14 اگست کی صبح 10 بجے زمان پارک لاہور سے روانہ ہو گا اور ہم ’شریف خاندان کی بادشاہت ختم کر کے رہیں گے: عمران خان

پاکستان میں یومِ آزادی کے موقعے پر پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے پاکستان تحریکِ انصاف کا حکومت مخالف لانگ مارچ عمران خان کی قیادت میں شروع ہو گیا ہے۔

اس سے پہلے عمران خان کی رہائش گاہ کے قریب زمان پارک کے علاقے میں تحریکِ انصاف کے سربراہ نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر صورت اسلام آباد پہنچیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’نہ گرمی کی فکر کرو، نہ کنٹینروں کی، میں اسلام آباد پہنچوں گا، آپ میرے ساتھ پہنچیں گے اور اس ملک میں ایک نئے پاکستان کا سورج طلوع ہوگا۔‘

اس کے علاوہ پنجاب کے گورنر چوہدری سرور نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب حکومت مارچ کے سلسلے میں قطعاً رکاوٹ نہیں بنے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ طاہر القادری اور عمران خان کا مارچ پر امن رہے گا۔ انھیں زیرو پوائنٹ تک آنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’گورنر سندھ اور الطاف حسین نے حکومت، تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے درمیان مفاہمت کے عمل میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

زمان پارک سے ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے زمان پارک کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی خاص رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔

نامہ نگار نے بتایا کہ اس کے برعکس ماڈل ٹاؤن میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کر دیے گئے ہیں، اور منہاج القرآن کے ارد گرد کے علاقے کو پولیس نے اپنے حصار میں لے لیا ہے۔

ماڈل ٹاؤن میں کنٹینرز کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، موبائل فون اورانٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے اور جگہ جگہ خاردار تاریں لگا دی گئی ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عملی طور پر ماڈل ٹاؤن ’نو گو ایئریا‘ بن چکا ہے۔

صوبے میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ اور سڑکوں پر سینکڑوں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں۔ پنجاب کے محکمہ داخلہ نے جمعرات سے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جو کہ پیر تک لاگو رہے گی۔ اس کے تحت ضلعی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر چار سے زیادہ لوگوں کے اجتماع پر پابندی ہو گی۔

اس کے علاوہ مظاہرین یا لانگ مارچ میں شرکت کرنے والے افراد پر گیس ماسک اور رائٹ گیئر رکھنے پر بھی پابندی ہوگی۔

ادھر اسلام آباد میں بیشتر داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور شہر میں بارش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

آزادی مارچ کے نام سے منسوب پاکستان تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کی منزل دارالحکومت اسلام آباد ہے اور جماعت کا مطالبہ ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت مستعفی ہو اور 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تفتیش کروائی جائے۔

اس سلسلے میں ایک سال سے زیادہ عرصے تک تحریکِ انصاف دھاندلی کے الزامات لگاتی رہی ہے اور اس کا موقف ہے کہ الیکشن ٹرائبیونلز میں انھیں انصاف نہیں ملا۔

منگل کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسلام آباد میں اس موقعے پر ایک اندازے کے مطابق 20000 سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں

اس پیشکش کے جواب میں لاہور میں بدھ کی شب کارکنوں سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد جا کر مطالبہ کریں گے کہ انتخابی دھاندلی میں ملوث وزیرِ اعظم کو مستعفی ہونا چاہیے۔

انھوں نے وزیراعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میاں صاحب عدالتی کمیشن تب بنے گا جب آپ مستعفی ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ 14 اگست کی صبح 10 بجے زمان پارک لاہور سے روانہ ہو گا اور وہ ’شریف خاندان کی بادشاہت ختم کر کے رہیں گے اور حقیقی جمہوریت لائیں گے۔‘

ادھر پاکستان عوامی تحریک نے اپنی انقلاب مارچ کو پاکستان تحریکِ انصاف کی آزادی مارچ کے ساتھ ملانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ادھر وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت کو آئینی احتجاج پر اعتراض نہیں اور آزادی مارچ اور انقلاب مارچ سے متعلق عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ نے بدھ کو اپنے فیصلے میں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو کسی غیر آئینی طریقے سے لانگ مارچ کرنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے سے روک دیا ہے۔

اسی بارے میں