پشاور میں ہلاکتیں، وزیراعلیٰ آزادی مارچ میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور ان کی کابینہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا کہ ان کے اپنے شہر میں لوگوں کی چھتیں گر گئی ہیں جبکہ وہ وفاقی حکومت گرانے اسلام آباد میں دھرنے میں شریک ہیں

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں طوفانی بارشوں سے ہونے والی ہلاکتوں اور نقصان کے بعد یہ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ وفاقی حکومت گرانے اسلام آباد میں دھرنے دے رہے ہیں جبکہ ان کے اپنے صوبے میں شہریوں کے مکانات کی چھتیں گر گئی ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس بارے میں بحث جاری ہے کہ وزیراعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کی غیر موجودگی میں اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کے ارکان بھی غائب تھے۔

گذشتہ روز جمعے کی شام اچانک طوفانی بارش اور آندھی سے متعدد مکانات کی چھتیں منہدم ہونے کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد اب 18 تک پہنچ گئی ہے جس میں 15 افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ تین افراد نے ہسپتال میں دم توڑا۔

ڈی ایم ایس ایڈمن لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر صبحانی کے مطابق بیشتر زخمیوں کو طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ 11 افراد ابھی بھی ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔

مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور ریسکیو حکام نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ زخمیوں کو ملبے تلے سے نکالا اور انھیں ہسپتال پہنچایا۔

بارش سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات ذرائع ابلاغ میں زیادہ کوریج حاصل نہیں کر سکے کیونکہ آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے لیے بریکنگ نیوز اور تجزیے جاری تھے۔

اس دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور ان کی کابینہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا کہ ان کے اپنے شہر میں لوگوں کی چھتیں گر گئی ہیں جبکہ وہ وفاقی حکومت گرانے اسلام آباد میں دھرنے میں شریک ہیں۔

یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کہیں بھی اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آ جائے تو وزیراعلیٰ خود ہر جگہ نہیں پہنچ سکتے۔

ایک شہری نے کہا کہ صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمنٹے کا ادارہ پی ڈی ایم اے یا دیگر انتظامی افسران کو چاہیے تھا کہ وہ فوراً لوگوں کی امداد کرتے لیکن وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے ارکان کی غیر موجودگی میں وہ بھی ٹی وی پر آزادی مارچ دیکھنے میں مصروف رہے ہیں۔

Image caption صوبہ خیبرپختونخوا میں عمران کی پارٹی برسراقتدار ہے

وزیر اعلیٰ نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے ان کے لیے مالی معاونت کا اعلان کیا ہے اور انتظامیہ کو لوگوں کی مدد کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

اگر یہ فرض کیا جائے کہ وزیر اعلی اس آزادی مارچ میں شرکت کے لیے نہ جاتے تو ذرائع ابلاغ میں کیا خبریں آتیں کہ عمران خان کے ساتھ تو ان کے اپنے وزیراعلیٰ بھی نہیں گئے اور یہ کہ عمران خان اپنی حکومت کو تو اس میں شامل نہیں کر رہے ہیں جبکہ دوسرے صوبوں میں حالات خراب کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وزیر اعلی نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے ان کے لیے مالی معاونت کا اعلان کیا ہے

اس موقعے پر پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں نے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی اور وزیراعظم نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان روانہ کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے قیام کے بعد سے 12 ماہ میں خیبر پختونخوا میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا تو اب اچانک انھیں خیبر پختونخوا کی یاد کیسے آگئی۔

اس معاملے پر یہ بحث کرنا بالکل ویسا ہے جیسے ایک فلم میں ایک سیاستدان اپنے سیکریٹری سے پوچھتا ہے کہ بتاؤ وزیراعلیٰ حادثے کے مقام پر کیسے جا رہے ہیں اگر جہاز میں جا رہے ہیں تو بیان دو کہ لوگ مر رہے ہیں اور وزیراعلیٰ جہاز کی سیر کر رہے ہیں اور اگر سڑک کے راستے جا رہے ہیں تو بیان دو کہ ایک طرف لوگ مر رہے ہیں اور وزیراعلیٰ خراماں خراماں اس مقام پر پہنچ رہے ہیں۔

اکثر تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں اس بارے میں بیان بازی صرف سیاسی داؤ پیچ کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں