’لوگوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے‘

  • 17 اگست 2014
Image caption اِس تحریک کو چلانے سے ملک میں انتشار پھیلے گا لہٰذا یہ کام نہیں ہونا چاہیے: سینیٹر مشاہداللہ

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہد اللہ نے عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کو ریاست کے خلاف’بغاوت‘ پر اُکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک کے نظام کو چلتے رہنا چاہیے اور اس قسم کی تحریک چلانے سے ملک میں انتشار پھیلے گا۔

مشاہد اللہ نے کہا کہ وہ گزشتہ دس پندرہ دنوں کے دوران بار بار عمران خان کو کہتے رہے ہیں کہ وہ ’جو کچھ کر رہے ہیں وہ سیاسی خودکشی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’1977 میں بھی بہت بڑا احتجاج ہوا تھا جس میں 1200 افراد اپنی جانوں سے گئے تھے مگر جب اُس وقت بھی ملک کے بڑے بڑے لیڈروں کے سامنے جب یہ تجویز رکھی گئی کہ ہمیں سول نافرمانی کی تحریک چلانی ہے تو انہوں نے منع کردیا تھا۔‘

سینیٹر مشاہداللہ نے کہا کہ ’عمران خان کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ انہوں نے کیا بات کی ہے اور یہ ناکام ہوگی۔ اِن کے لوگ بالکل بل بھی دیں گے اور سارے ٹیکس بھی دیں گے۔ اور اگر خود نہیں دیں گے تو بنی گالا کی بجلی کٹی ہوئی ہوگی اور وہاں کی گیس بھی کٹ جائےگی۔‘

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے کسٹوڈین عوام ہیں جو کروڑوں کی شکل میں نکل کر ووٹ دیتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ اِس ملک کے بنیادی سسٹم کو کوئی ہلانے کی کوشش کرے۔

مشاہد اللہ ِخان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بغاوت ہے ریاست کے خلاف۔ یہ حکومت کے خلاف نہیں ہے کیونکہ حکومت میں صرف ایک جماعت ہوتی ہے۔ یہ پورے پاکستان کے خلاف بات ہے کہ لوگوں کو اُکسایا جا رہا ہے کہ وہ ریاست کے خلاف بغاوت کر دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام عمران خان کی بات نہیں مانے گی: ’ان کی بات پر کوئی عمل پیرا نہیں ہوگا۔۔۔پاکستان کے عوام اتنے غیر ذمہ دار نہیں ہیں کہ وہ یہ کام کریں۔ وہ اسے مسترد کر دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر معقولیت سے کام لیا جائے تو ہر مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن اگر عمران خان اور طاہر القادری کسی پس پردہ مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں تو ظاہر ہے وہ کسی معقول بات کو نہیں مانیں گے۔‘

سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کے بعد بھی حکومت عمران خان سے مذاکرات کرے گی یا نہیں؟ اِس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت تو کرنی پڑے گی کیونکہ اب وہ پارلیمان کا حصہ بن گئے ہیں ورنہ اِس پہ بات تو نہیں ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہ غیر سیاسی لوگ ہیں۔ یہ جو منہ سے کہتے ہیں انہیں پتا نہیں ہے۔ ہم انہیں یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ یہ جو آپ نے کہا ہے یہ ملک سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور آپ لوگوں کو اُکسا رہے ہیں اِس ملک کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں۔‘

مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا وزیراعلیٰ استعفی دینے کو تیار نہیں ہے۔ ’خود استعفی نہیں دیتے نواز شریف سے استعفی مانگ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں