’تاجر برادری سول نافرمانی کو مسترد کرتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبوں کے روزانہ کے اور ترقیات اخراجات کا 90 فیصد وفاق سے آتا ہے: وزیرِ خزانہ

آل پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زکریا عثمان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے اعلان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر برادری ٹیکس نہ دینے کی اپیل مسترد کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عید کی چھٹیوں سے لے کر اب تک اس ہنگامے میں تقریباً 12 ارب کا نقصان ہو چکا ہے۔

’سیاستدانوں کو سوچنا چاہیے کہ ان حالات میں برآمدات کیسے کی جائیں گی۔ اگر بجلی کے بل نہ دیے اور بجلی کٹ گئی تو ملازمین کا کیا ہوگا، جو افراد یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں وہ بے چارے کہاں جائیں گے۔‘

زکریا عثمان نے کہا کہ عمران خان کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے اور مفاہمت کی جانب قدم بڑحانے چاہیے۔

اس سے علاوہ گذشتہ شب پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی سول نافرمانی تحریک کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستانی سٹاک مارکیٹ کو 350 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یاد دہانی کروائی کہ صوبوں کے روزانہ کے اور ترقیاتی اخراجات کا 90 فیصد حصہ وفاق سے آتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والی جماعتوں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک سے مذاکرات اور ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکراتی کمیٹیاں بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے اتوار کی شب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں سے مذاکرات کے لیے الگ الگ کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں جن میں پارلیمان میں موجود جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔

’آزادی اور انقلاب مارچ‘ اسلام آباد میں: لائیو اپ ڈیٹس

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ کمیٹی حکومت کی کمیٹی نہیں ہوگی اسے سیاسی جماعتوں کی کمیٹی سمجھا جائے: چوہدری نثار

حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے کے بارے میں اعلان اس وقت ہوا ہے جب تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کے لیے دو دن کی مہلت دی ہے۔

اس سے قبل سنیچر کی شب عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے چکے ہیں۔

پریس کانفرنس میں چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کے پاس آزادی اور انقلاب مارچ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی گنجائش تھی لیکن انھیں ’فری ہینڈ‘ دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کی تقریر سن کر انھیں دکھ ہوا: ’دھرنا اور اس کے مقاصد تو ایک طرف، میں حیران ہوں کہ انھیں سول نافرمانی کی تجویز کس نے دی اور اس سے بڑھ کر حیران ہو کہ انھوں نے اسے پی ٹی آئی کی پالیسی بنا لیا اور اس کا اعلان کر دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے اپنے کارکنان کو دو دن تک ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کی بارہا ہدایت کی

ان کا کہنا تھا کہ ’سول نافرمانی حکومت کے خلاف کم اور ریاست کے خلاف زیادہ ہوتی ہے۔‘

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سول نافرمانی ملک پر غیر ملکی تسلط کے خلاف کی جاتی ہے اور’اس ملک میں چار مرتبہ مارشل لا لگا ہے مگر تب بھی نہ سول نافرمانی کا مطالبہ سامنے آیا نہ روایت ڈالی گئی۔‘

انھوں نے عمران خان اور طاہر القادری کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ ان کی ہر قانونی و آئینی بات ماننے کو تیار ہیں لیکن ان کے لیے پارلیمان کا راستہ اختیار کیا جائے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت نے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر فیصلہ کیا ہے کہ کل (پیر کو) عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف سے مذاکرات کے لیے دو علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت سب سے مشاورت کر رہی ہے اور ’یہ کمیٹی حکومت کی کمیٹی نہیں ہوگی اسے سیاسی جماعتوں کی کمیٹی کہا جائے۔‘

وزیرِ داخلہ نے کہا مسلم لیگ ن بھی بقیہ جماعتوں کی طرح دونوں کمیٹیوں کے لیے اپنے ارکان نامزد کرے گی اور ’ کل باقاعدہ طور پر ان کا اعلان ہو جائے گا اور کل ہی یہ کام شروع کر دیں گی۔‘

انھوں نے عمران خان اور طاہر القادری سے کہا کہ وہ ان سے پاکستان کے نام پر درخواست کرتے ہیں کہ سیاسی لڑائی چلتی رہے گی لیکن اس کے دائرۂ کار کا تعین ہونا چاہیے کیونکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چل سکتا۔

اسی بارے میں