خیبر پختونخوا میں وزیرِ اعلیٰ اور پی ٹی آئی پر عدم اعتماد

  • 19 اگست 2014
تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اطلاعات کے مطابق تحریکِ انصاف کے اپنے ممبران صوبائی اسمبلی عمران خان کے فیصلوں کی مخالفت کر رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اسمبلی کی ممکنہ تحلیل کو روکنے کے لیے صوبے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا دی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں قومی وطن پارٹی کے پارلیمانی رہنما سکندر حیات خان شیرپاؤ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف اسمبلی سیکریٹریٹ میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس تحریک پر پانچ سیاسی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام ف اور قومی وطن پارٹی کے 47 ممبران نےدستخط کیے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک لانے کا مقصد خیبر پختونخوا اسمبلی کی ممکنہ تحلیل کو روکنا ہے۔ سکندر شیرپاؤ کے مطابق قواعد کے مطابق سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی 15 دنوں کے اندر اندر اسمبلی اجلاس بلانے کے پابند ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ سپیکر کی طرف سے ممبران کے دستخطوں کی تصدیق کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر اسمبلی میں تحریک پر ووٹنگ کرائی جائے گی۔

ادھر گذشتہ روز تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے اسلام آباد میں آزادی مارچ سے خطاب کے دوران قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے کے فیصلے کے بعد یہ افواہیں گرم تھیں کہ شاید تحریک انصاف مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کر دے یا ان کے اراکین اپنے اپنے نششتوں سے مستعفی ہو جائیں۔

تاہم خیبر پختونخوا اسمبلی کی ممکنہ تحلیل روکنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے رہنما گذشتہ روز سے ہی پشاور میں متحرک ہوگئے تھے اور آج بھی وہ سارا دن صلاح و مشورے میں مصروف رہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما سردار حسین بابک نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے متفقہ طورپر فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل نہیں ہونے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے اپنے ممبران صوبائی اسمبلی عمران خان کے فیصلوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ادھر یہ اطلاعات بھی ہیں کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے کئی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اعلان پر نہ صرف ناراض ہیں بلکہ وہ اس سلسلے میں پارٹی کے فیصلے سے بغاوت کرنے پر بھی غور کررہے ہیں۔

تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا اسمبلی کے دو ممبران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کے کئی منتخب اراکین استعفے دینے کے فیصلے سے سخت ناراض ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کئی ارکان اس بات پر غور کررہے ہیں کہ پارٹی کے فیصلے سے انکار کر کے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کریں یا دیگر جماعتوں سے رابطہ کیا جائے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں صلاح و مشورے جاری ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا ایک ناراض گروپ پہلے ہی سے موجود ہے جس کے ارکان کی تعداد 14 ہے۔ اس گروپ میں وہ ارکان بھی شامل ہیں جنھوں نے آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ گروپ میں شامل بیشتر ارکان وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے ناراض بتائے جاتے ہیں۔

تحریک انصاف کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد پہلے ہی اسمبلی کی تحلیل اور دیگر غیر جمہوری اقدامات کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی کل نششتوں کی تعداد 124 ہے جن میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد 56 ہے جبکہ حکومت میں شامل دو دیگر جماعتوں جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد کی نششتوں کی تعداد آٹھ اور پانچ ہے۔

اس کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف کے ممبران کی تعداد 17، مسلم لیگ ن 16، قومی وطن پارٹی کے دس، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کے پانچ پانچ جبکہ ایک رکن آزاد ہے اور ایک نشست پر ابھی انتخاب ہونا ہے۔

اسی بارے میں