اسلام آباد دھرنے کے کارکنوں کی مشکلات

Image caption پارلیمان کے اطراف میں پولیس کہیں کہیں دکھائی دے رہی ہے اور وہ بھی دوپہر کے کھانے میں مصروف

اسلام آباد کا ڈی چوک ایک ایسے گاؤں کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں شام کو میلہ کو سجتا ہے دن کو نہیں۔ چلچلاتی دھوپ اور حبس کارکنوں کو ایک انچ کے سائے کی تلاش میں سرگرداں کیے ہوئے ہے۔

دور دراز کے لوگ اسلام آباد کے اس علاقے سے بالکل ناواقف ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کھانے کی جگہ کہاں ہے تو کوئی کہہ رہا ہے قریب میں مسجد کوئی ہے یا نہیں۔

آبپارہ کے مقابلے پریڈ گراؤنڈ ایک ایسا صحرا ہے جہاں دور دور تک سایہ نہیں۔ کسی نے گرائے ہوئے سائن بورڈوں تلے، تو اکثر نے ٹرکوں کے نیچے سائے کو ہی غنیمت سمجھ کر سورج سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ خواتین بھی ٹرکوں کے نیچے پناہ لیے ہوئے تھیں۔

پریڈ گراؤنڈ میں پینے کے پانی کا ٹینکر عوامی حمام بن چکا ہے۔ شاید اسی مشکل کو دیکھتے ہوئے عوامی تحریک کے رہنما طاہر القادری نے غیر معمولی خطاب کرتے ہوئے ہوئے تسلیم کیا کہ ان کے کارکن یہ سختیاں زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے۔

طاہر القادری نے حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کارکنوں کو پارلیمان کا راستہ بند کرنے کا حکم دیا۔

پارلیمان کے اطراف میں پولیس کہیں کہیں دکھائی دے رہی ہے اور وہ بھی دوپہر کے کھانے میں مصروف اور مینو وہی ایک مقبول مقامی ریستوران کا مرغ پلاؤ۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا صرف پولیس کے لیے ایک وقت 40 ہزار افراد کا کھانا اس ریستوران سے آتا ہے۔

تھوڑا آگے بڑھا تو ایک شخص چھتریاں فروخت کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ ’پریڈ گراؤنڈ میں تو چھتریاں خوب فروخت ہو رہی ہوں گی؟‘ کہنے لگا، ’ابھی آج صبح سے تو کوئی زیادہ نہیں لیکن امید ہے کہ یہ گرمی کام آئے گی۔‘

میں نے سوال کیا کہ ’موقع دیکھ کر چھتری دوگنی قیمت پر تو فروخت نہیں کر رہے؟‘ تو کہنے لگا ’نہیں، ایک چھتری میں صرف دس روپے بچتے ہیں۔‘ آپ ہی اندازہ لگا لیں سیاست دانوں کی طرح وہ کتنا سچ بول رہا ہے؟

یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ چلو میٹرو بس کے منصوبے پر کام اس احتجاج سے متاثر نہیں ہو رہا ہے۔ مزدور قریب ہی اپنے دھن میں مگن دکھائی دیے۔

اس موسم میں اکثریت عوامی تحریک کے کارکنوں ہی کی دکھائی دی، جو سو رہے تھے اور ان کے سرہانے ڈنڈے بھی پڑے تھے، یعنی نیند میں بھی ہر صورتِ حال کے لیے ہر وقت تیار۔

پسینے سے شرابور پاکستان تحریکِ انصاف کے پرچم کا جوڑا پہنے موٹر سائیکل پر خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع درہ آدم خیل سے آئے ہوئے ایک شخص نے قریب آ کر سگریٹ نہ ملنے کی شکایت شروع کر دی۔

جب مائیک سامنے کیا تو کہنے لگا: ’نہیں، کوئی مسئلہ نہیں، کھانا پانی دونوں ہی مل جائیں گے۔ خان کے لیے جان بھی حاضر ہے، آپ کا بھی تابع دار ہوں۔‘

عوامی تحریک کے سپیکروں سے اعلانات ہو رہے تھے: ’جعلی پارلیمان کے سامنے عوامی پارلیمان۔‘

سوچا کہ اگر پارلیمان اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا نہیں کرے گی، لوگوں کے مسائل قانون سازی کے ذریعے حل نہیں کرے گی اور محض فوائد کے لیے بااثر لوگ انتخابات لڑیں گے تو ایسی تنقید کچھ زیادہ بےجا بھی نہیں۔

واپس دفتر پہنچا تو قادری صاحب نے پارلیمان کے راستے بند کر دیے۔ بات آخر کہاں تک جائے گی؟ گذشتہ برس قادری صاحب کے دھرنے میں ان کی پشت پارلیمان کی جانب تھی، آج وہ ’فیس ٹو فیس‘ ہیں۔

اسی بارے میں