افغانستان کی بگرام جیل سے نو پاکستانی رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بگرام جیل کے بڑے حصے کا نظم و نسق افغان حکام کے حوالے کیا جا چکا ہے تاہم جہاں پاکستانی قید ہیں وہ حصہ اب بھی امریکہ کے کنٹرول میں ہے

افغانستان میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ بگرام جیل میں قید نو پاکستانیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

اس غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق قیدیوں کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اس کی وزارتِ داخلہ نے بھی تصدیق کی ہے۔

عالمی امدادی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈکراس نے رہا ہونے والے والے پاکستانیوں کے اہلِ خانہ کو رہائی کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے مطابق رہا ہونے والے قیدیوں میں بلوچستان کے ضلع پنجگور کے عبدالنبی، بلوچستان کے قلائی ہروت کے سردار محمد، قبائلی علاقے کے زبیت اور عمران، کراچی کے رہائشی محمد اقبال، خیبر پختونخوا کے علاقے تاثیر بروالی کے رہائشی امتیاز خان، مانسہرہ کے شعیب خان، لکی مروت کے لطیف اللہ اور لاہور کے رہائشی عمران الحسن شامل ہیں۔

تنظیم کے مطابق ان افراد کو کئی برس تک بغیر کسی الزام کے جیل میں قید رکھا گیا اور انھیں وکیل کی سہولت بھی حاصل نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ سال بھی چھ پاکستانیوں کو بگرام جیل سے رہا کیا گیا تھا

تنظیم نے پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے سال 2010 سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

’رہا ہونے والوں میں سے 39 سالہ شعیب خان ایبٹ آباد میں کاروبار کرتے تھے اور سال 2008 میں اس وقت لاپتہ ہو گئے جب وہ کاروبار کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان کے اہل خانہ کو ریڈ کراس کے ذریعے معلوم ہوا کہ شعیب بگرام جیل میں قید ہیں اور اس اطلاع پر ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔‘

تنظیم کی وکیل بیرسٹر سارہ بلال نے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کو خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ان قیدیوں کو مشکل ہی سے اپنے اہل خانہ دوبارہ ملنے کی اجازت دی جاتی ہے اور انھیں پاکستانی حکام کی قید میں رکھا جاتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ان قیدیوں کو زیادہ دیر تک اپنے اہل خانہ سے دور نہیں رکھے گی اور جلد ہی ان کو اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔‘

بگرام جیل کے بڑے حصے کا نظم و نسق افغان حکام کے حوالے کیا جا چکا ہے جس کے بعد بہت سے مقامی قیدیوں کو رہائی مل گئی ہے، تاہم وہ حصہ جہاں پاکستانیوں سمیت غیرملکی قید ہیں، اب بھی امریکیوں کے زیرِانتظام ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں چھ پاکستانیوں کو بگرام سے رہائی ملنے کے بعد دو ماہ تک پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں رکھا گیا تھا۔

ان میں سے اکثر لوگ ابھی بھی اس جیل میں خود سے روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ کہیں انھیں دوبارہ اپنی آزادی سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں۔

اسی بارے میں