’مستعفی ہونے سے ملک میں بحران پیدا ہو جائےگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’حکومت دھرنا دینے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرے گی اور حکومت ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی‘

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر پاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے استعفے کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مستعفی ہونے سے ملک میں بحران پیدا ہو جائے گا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر اعظم نے یہ بات جمعرات کو سینیئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس سیاسی مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک موجودہ صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انھوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ اب حکومت مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے والی ہے: ’حکومت دھرنا دینے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرے گی اور حکومت ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔‘

نواز شریف نے مزید کہا کہ پارلیمان میں تمام جماعتیں ماسوائے ایک جماعت کے، حکومت کے حق میں ہیں:’تمام جماعتیں یکجا ہیں اور حکومت عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرے گی۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے وزیرِ اعظم نواز شریف کے حق میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایوان چند سیاسی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے غیر آئینی مطالبات کو مسترد کرتا ہے۔

قرارداد میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ ایوان ملک میں جمہوری نظام کی بقا اور اس کے آئین کے مطابق پھلنے پھولنے کو یقینی بنائے گا۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ انھوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات کو مان لیا جائے لیکن مطالبات کی ترتیب تبدیل کردی جائے۔

بی بی سی اردو کے لیے صحافی مبشر زیدی سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ انھوں نے تجویز دی ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب چھ مطالبات میں سے پہلے مطالبے یعنی وزیر اعظم نواز شریف مستعفی ہوں کو آخری مطالبہ کر دینا چاہیے۔

سید خورشید شاہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے پہلے ہی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

ان کے مطابق اگر سپریم کورٹ کے جسٹس صاحبان پر مشتمل یہ کمیشن یہ رپورٹ دے دیتا ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر اور منصوبہ بندی کے تحت دھاندلی ہوئی ہے اور یہ بات ثابت ہو جاتی ہے تو وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں۔ ’یہ پیشکش خود وزیر اعظم صاحب نے کی ہے۔‘

تاہم بعد میں سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ باتیں دھرنوں سے نہیں مذاکرات سے حل ہوتی ہیں۔ ’اسی لیے میں نے یہ فارمولا پیش کیا ہے کہ سپریم کورٹ کمیشن کی رپورٹ آنے دیں اور جو بھی فیصلہ آئے اس کو مان لیا جائے۔ اس فارمولے کو نہ صرف عمران خان بلکہ حکومت کو بھی ماننا پڑے گا۔‘

اسی بارے میں