سواتی خواتین کی زندگی میں آتی مثبت تبدیلیاں

Image caption طالبان کے دور میں لڑکیوں کے سکول جانے اور خواتین کی ملازمتوں پر پابندی تھی

طالبان کےسابق مضبوط گڑھ ضلع سوات کی نصف آبادی کو طالبان نے تقریباً تین سال تک گھروں تک محدود رکھا، تاہم فوجی کارروائی کے نتیجے میں طالبان کے زوال کے بعد اب سوات کی خواتین آزاد اور خوش ہیں۔

طالبان نے خواتین کی ملازمتوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی تھی اور طالبان کے دور عروج میں ان پابندیوں کے باعث خواتین سخت نفسیاتی دباؤ کا شکار رہیں ۔

سیدو شریف کی رہائشی 28 سالہ شگفتہ طالبان کی بے دخلی پر خود کو خوش قسمت خاتون تصور کرتی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’طالبان کے دور میں خواتین پر پہرے لگائے گئے تھے،گھروں سے نکلنے، لڑکیوں کے سکول جانے اور خواتین کی ملازمتوں پر پابندی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو سرعام کوڑے لگانے اور انھیں ڈرانے دھمکانے کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے خواتین کو ذہنی امراض میں مبتلا کر دیا تھا اور ’وہ چاہتے تھے کہ خواتین اپنی بقا کے لیے مردوں کی محتاج رہیں۔‘

Image caption اب سوات میں خواتین اپنے مطالبات کے حق میں سرِ عام مظاہرے بھی کر سکتی ہیں

مینگورہ کے نواحی علاقے شگئی کی ایک طالبہ رخسانہ طالبان کے زوال پر بہت خوش ہیں۔

ان کے مطابق انھیں اب بھی وہ تلخ وقت یاد ہے جب برقعہ پہننے کے باوجود کالج جانا ایک بھیانک تجربہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اب میں بغیر کسی خوف کے کالج جاتی ہوں اور بازار سے اپنے لیے کتابیں بھی خود خرید کر لاتی ہوں۔‘

خواتین کے لیے مخصوص بازار میں خریداری کے لیے آنے والی کبل کی خاتون مہناز بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کے دور میں خواتین کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور خواتین خاندان کے کسی بالغ مرد کے ہمراہ ہی گھر سے باہر نکل سکتی تھیں۔

ان کے مطابق ’دہشت گردوں کا صفایا‘ ہونے پر وہ انتہائی خوش ہیں کیونکہ اب وہ اپنی پسند اور ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لیے بغیر کسی خوف کے بازار آ جا سکتی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے کی بعض خواتین کو اب بھی عسکریت پسندی کے دوبارہ سر اٹھانے کا خدشہ ہے۔

طالبان کے انخلا کے بعد سوات میں خواتین کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے خواتین جرگے کا قیام عمل میں لایا گیا جو خیبر پختونخوا کا پہلا خواتین جرگہ ہے۔

Image caption گو کہ اب بیشتر خواتین بازار آ کر خریداری کر رہی ہیں تاہم بعض کو اب بھی خدشہ ہے کہ طالبان واپس آ جائیں گے

جرگے کی سربراہ تبسم عدنان نے بتایا کہ ’معمول کی زندگی پلٹنے کا عمل اگرچہ اتنا پرسکون نہیں ہے کیونکہ علاقے میں جاری ٹارگٹ کلنگ اور دیگر تخریبی کاروائیوں سے لوگوں میں اب بھی خوف ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے انخلا کے بعد اب یہاں کی خواتین اپنے حقوق کے لیے نہ صرف آواز اٹھاتی ہیں بلکہ شہر کی سڑکوں پر باقاعدہ احتجاجی مظاہرے بھی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق سوات کی خواتین علاقے سے دہشت گردوں کا صفایا ہونے اور امن کی بحالی پر بہت خوش ہیں۔

اسی بارے میں