’کنٹینر مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومت کو اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنی چاہیے اور فی الوقت کسی ایک راستے سے کنٹینر ہٹوا کر بات چیت کو آگے بڑھنے کا موقع پیدا کرنا چاہیے: ثالثی رکن

اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر جاری حکومت مخالف دھرنوں کے قائدین سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی ثالثی کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ بات چیت میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ کنٹینر بنے ہوئے ہیں۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے احتجاجی قافلے دو دن قبل ٹینکروں اور خاردار تاروں کی رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوئے تھے اور تب سے انھوں نے شاہراہِ دستور پر ہی ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

مظاہرین کے ریڈ زون میں داخلے کے بعد بدھ کو آبپارہ کی مرکزی سڑک اور سیونتھ ایوینیو سمیت ریڈ زون کو جانے والے راستے کھول دیے گئے تھے مگر جمعرات کو ریڈ زون کو جانے والے تمام راستوں کو کنٹینر لگا کر دوبارہ بند کر دیا گیا۔

حزبِ اختلاف کے ارکان پر مشتمل ثالثی کمیٹی کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت اور حزب اختلاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے مظاہرین سے مذاکرات میں حکومت کا یہی اقدام سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

ان کے بقول حکومت کو خدشہ ہے کہ کنٹینر ہٹے تو شاہراہِ دستور پر مظاہرین کا مجمع بڑھ جائے گا جسے کنٹرول کرنے میں نہ صرف مشکلات پیش آ سکتی ہیں بلکہ پولیس کی مزید نفری کی بھی ضرورت ہوگی جو فوری طور پر دستیاب نہیں، جبکہ مجمع بڑھنے سے اس کے بے قابو ہونے اور بدامنی کا بھی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا ’ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان بضد ہیں کہ جب تک کنٹینر نہیں ہٹیں گے کسی کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ اب ہم کریں تو کیا کریں۔ بات کنٹینروں پر آ کر رک گئی ہے اور ہماری کوششوں کے باوجود کوئی بھی فریق ٹس سے مس ہونے پر تیار نہیں۔‘

ثالثی کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں حکومت کو اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنی چاہیے اور فی الوقت کسی ایک راستے سے کنٹینر ہٹوا کر بات چیت کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔

ثالثی کمیٹی کے رکن کے مطابق حکومت کو ڈر تھا کہ ڈاکٹر قادری کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع نہ ہوجائیں، تاہم ان کا یہ کہنا تھا کہ ’قبر پر سوا من مٹی ہو یا سوا سو من مٹی اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اصل ضرورت تو اس بات کی ہے کہ ان لوگوں سے مسلسل بات چیت ہوتی رہے تاکہ کسی کو بھی چنگاری بھڑکانے یا آگ لگانے کا موقع نہ ملے۔‘

ثالثی کمیٹی کے رکن نے یہ بھی بتایا کہ طاہرالقادری نے شاہراہِ دستور پر مظاہرین کے لیے کھانے، پینے کے پانی اور ٹوائلٹس کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ثالثی کمیٹی کی درخواست پر وزیر اعظم محمد نواز شریف نے مظاہرین کے لیے پینے کے پانی اور کھانے کی فراہمی کے انتظامات کا حکم دیا تھا۔

ثالثی کمیٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ ’حکومت تنہائی میں رہ کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہ رہی ہے۔ اُسے مسلسل لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی حال میں روزانہ کی بنیاد پر بات چیت کا عمل جاری رکھنا چاہیے ورنہ صورتِ حال ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔‘

انھوں نے متنبہ کیا کہ اس احتجاج کا ہدف موجودہ حکومت ہے اور پارلیمان میں موجود جماعتیں جمہوریت کے دفاع کے لیے اس معاملے میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں مگر اگر کہیں معمولی سی غلط فہمی سے بھی ہنگامہ آرائی ہوگئی اور تشدد نے اپنا راستہ بنا لیا تو معاملہ حکومت کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

اسی بارے میں