تحریکِ انصاف کے بعض رہنما ناراض

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بدمزگی کے وقت اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبائی وزرا دھرنے میں سٹیج یعنی کنٹینر کی چھت پر موجود تھے

پاکستان تحریک انصاف میں منتخب اراکین قومی اسمبلی کا ایک ایسا گروپ ابھر کر سامنے آیا ہے جو غیر منتخب رہنماؤں کے روّیے سے نالاں ہے لیکن جماعت کے ذرائع کے مطابق یہ گروپ نہ تو استعفوں کے خلاف ہے اور نہ ہی پارٹی کے اندر کوئی فارورڈ بلاک بنا ہے۔

تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ کے دھرنے کے دوران کچھ اراکین اسمبلی کے ساتھ بد سلوکی کی گئی جس سے وہ اراکین ناراض ہوئے ہیں۔

ان ناراض اراکین کی تعداد دس سے 11 تک ہے اور ان میں بیشتر کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ جن رہنماؤں نے ان کے ساتھ بد تمیزی کی ہے ان کا تعلق صوبہ پنجاب سے بتایا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ان ناراض اراکین نے اس بدسلوکی کے بعد ایک اجلاس منعقد کیا ہے جس میں ان کے خلاف رویے کی مذمت کی گئی جبکہ ان ناراض اراکین نے کور کمیٹی کے کچھ اراکین پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے والے رکن قومی اسمبلی نے اسلام آباد سے ٹیلی فون پر بتایا کہ واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ بڑی تعداد میں اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبائی وزرا دھرنے میں سٹیج یعنی کنٹینر کی چھت پر موجود تھے۔ اس دوران دو رہنماؤں سیف اللہ نیازی اور نعیم الحق نے ان اراکین قومی اسمبلی کو دھکے دیے اور انھیں سٹیج سے اترنے کو کہا جس پر اراکین اسمبلی نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی ہیں کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے فارورڈ بلاک قائم کر دیا ہے

ان اراکین کا تعلق صوبے کے جنوبی اضلاع، ہزارہ ڈویژن اور پشاور سے بتایا گیا ہے جن میں ایک انتہائی اہم خاتون رکن اسمبلی بھی شامل ہیں۔

ان ناراض اراکین کے اجلاس میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں ان غیر منتخب رہنماؤں کے رویے کی مذمت کی گئی اور جماعت کی کور کمیٹی پر بھی تنقید کی گئی۔ ان اراکین کا موقف کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ کور کمیٹی میں اراکین کو ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ان اراکین نے کوئی فارورڈ بلاک نہیں بنایا اور ان تمام اراکین نے اپنے استعفے پہلے ہی جمع کرا دیے تھے اس لیے علیحدہ گروپ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی ہیں کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے فارورڈ بلاک قائم کر دیا ہے اور اس بلاک کے سربراہ گلزار خان کو مقرر کیا گیا ہے لیکن گلزار خان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بیمار ہیں اور ان دنوں ان کا علاج ہو رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف میں چند ماہ پہلے صوبائی اسمبلی میں بھی کچھ اراکین نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی اور ایک علیحدہ گروپ بنانے کا عندیہ دیا تھا لیکن جماعت کی طرف سے ان کے تمام شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس کے بعد کابینہ میں بھی ردو بدل کیا گیا اور بعض اراکین سے وزارتیں واپس لے لی گئی تھیں۔

اسی بارے میں