جمہوریت کی راہ میں حائل تمام رکاوٹو ں سے لڑیں گے: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہان کا مطالبہ ہے کہ نواز شریف وزیرِ اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیں

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ 20 کروڑ عوام کی نمائندہ ہے لہذا آئین کی پاسداری اور جمہوریت کا سفر جاری رہے گا۔

نواز شریف سے کہا ہے مسئلہ سیاسی طور پر حل کریں: آصف زرداری

ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اور وزیرِ اعظم آتے اور چلے جاتے ہیں تاہم جمہوری نظام پر ایمان رکھنا جمہوریت کی فتح ہے۔

انھوں نے کہا پارلیمان میں موجود دس میں سے نو جماعتوں نے ان کی حکومت کے حق میں پیش کی گئی قرار داد کی حمایت کی۔

انھوں نے ارکانِ پارلیمان سے کہا کہ ’میں آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔‘ وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ ان تمام طبقات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ان کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی اس نظام میں خلل ڈالنا چاہے گا تو اس کا محاسبہ کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ملک میں جاری ترقیاتی کام جاری رہیں گے۔ انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اپنی مدت پورا کرے گی۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے یہ خطاب ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے یہ عندیہ دے رکھا ہے کہ آج ہونے والے مذاکرات آخری ہوں گے جس کے بعد ان کی جماعت آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption موجودہ سیاسی کشیدگی پر سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی وزیرِ اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی

پاکستان تحریکِ انصاف کے مطالبات میں پہلا مطالبہ وزیرِ اعظم کا استعفیٰ ہے جس کے باعث مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔

حکومت کی مذاکراتی ٹیم اب سے کچھ دیر بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے مذاکراتی وفد سے ملنے والی ہے۔

وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی بحران سے ملک میں معاشی صورتحال ابتر ہوئی ہے۔

وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان احتجاجی مظاہروں سے ملکی معیشت کو بھی قابل ذکر نقصان پہنچا ہےاور سٹاک ایکسچینج میں لوگوں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جب وہ گذشتہ برس انتخابات کے بعد عمران خان سے ملنے ہسپتال گئے تھے تو اُنھوں نے خود مجھے (نواز شریف) کو مبارکباد دی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ ان احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جس طرح پارلیمنٹ نے اُن پر بھروسہ کیا ہے وہ کبھی بھی اُن کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اس بات کا ذکر پھر کبھی کریں گے کہ ان احتجاجی ریلیوں کے اصل محرکات کیا ہیں۔

ریلوے کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں ایوان کو آگاہ کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت اور ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ملنے کی متعدد بار کوشش کی لیکن اُن قائدین تک رسائی نہیں دی گئی۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداروں سے سات مرتبہ ملاقات کی ہے لیکن ایک مرتبہ بھی عمران خان سے براہِ راست ملاقات نہیں ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کی طرف سے یہ مطالبہ آیا ہے کہ نواز شریف وزیرِ اعظم کے عہدے سے ایک مہینے کے لیے الگ ہو جائیں۔ اور وزیرِ اعظم کے عہدے کو ایک ماہ کے لیے او ایس ڈی کا درجہ دے دیا جائے۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور ایسے مطالبے کو کسی طور بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت عمران خان کی طرف سے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی عدالتی تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہیں اور اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو صرف وزیر اعظم ہی نہیں بلکہ پوری کابینہ مستعفی ہو جائے گی۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کی قیادت ملاقات کے لیے ارکان پارلیمنٹ کو خود تک رسائی دیں۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے طاہر القادری سے کہا ہے کہ ماڈل ٹاؤن کے واقعے میں جو افراد ملوث ہیں صرف اُن کے نام بتائیں، باقی بےگناہ افراد کو ایف آئی آر میں شامل نہ کریں۔

وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ حکومت کا مظاہرین کے خلاف نہ پہلے کوئی کریک ڈاؤن کرنے کا ارادہ تھا اور نہ ہوگا۔

اسی بارے میں