شدت پسند کی ہلاکت کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی سخت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈیرہ اسماعیل خان میں جیل پر حملے کے علاوہ شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں ولید اکبر نامی ایک شدت پسند کی ہلاکت کے بعد پولیس نے شہر میں سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

سکیورٹی انتظامات میں حساس مقامات اور داخلی، خارجی راستوں پر نفری میں اضافہ کر کے پولیس اہلکاروں کو چوکس رہنے کا کہا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس افسر صادق حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے حساس مقامات پر سادہ لباس میں پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ولید اکبر کی ہلاکت کے بعد یہ خدشہ ہے کہ شدت پسند کوئی بھی کارروائی کر سکتے ہیں اور زیادہ خطرہ اس بات کا ہے کہ وہ پولیس پر حملے کر سکتے ہیں۔

ولید اکبر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اکبر علی کے بیٹے تھے لیکن پولیس کے مطابق گذشتہ چند برس سے وہ شدت پسندوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

ڈی پی او صادق حسین کے مطابق ولید اکبر ڈیرہ اسماعیل خان میں سال 2012 میں عاشورہ کے جلوس پر حملے میں ملوث تھے جبکہ پولیس پر متعدد حملوں کے علاوہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔

پولیس کے مطابق ڈیرہ میں عاشورہ کے جلوس کے حملے کے بعد ولید اکبر کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور عدالت نے اسے 1545 سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن ایک سال پہلے ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملے کے دوران حملہ آوروں نے جن پانچ اہم قیدیوں کی رہائی کے لیے اعلانات کیے تھے، ان میں ولید اکبر شامل تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے جیل پر حملے کے بعد لاؤڈ سپیکر کے ذریعے پانچ شدت پسندوں کو بیرکوں سے نکل کر باہر آنے کا کہا تھا اور انھیں ساتھ لے گئے تھے۔ ولید اکبر کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا گیا ہے۔

صادق حسین نے بتایا کہ گذشتہ روز بدھ کو پولیس کو یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ولید اکبر ڈیرہ اسماعیل خان میں کہیں موجود ہیں جس پر پولیس نے مشتبہ مقامات پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

انھوں نے کہا کہ اتنے میں پرووا چودھوان روڈ پر ایک موٹر سائیکل پر سوار تین افراد کو پولیس نے رکنے کا کہا لیکن وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے جس پر پولیس نے ان کا تعاقب کیا تو انھوں نے پولیس پر فائرنگ کی جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔

صادق حسین کے مطابق اس جھڑپ میں ایک شخص ہلاک اور دو افراد قریب کھیتوں میں چھپ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ہلاک شخص کی شناخت ولید اکبر کے نام سے ہوئی ہے۔

ولید اکبر ڈیرہ اسماعیل خان کا رہائشی تھا اور ان کے والد پولیس میں تعینات ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ ولید اکبر کی لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی اور رات گئے تدفین بھی کر دی گئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں تدفین کے دوران بھی علاقے میں سخت کشیدگی کا ماحول تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے مضافات میں گذشتہ چند روز سے حالات کشیدہ ہیں۔

اسی بارے میں