’نہیں پتہ کہ میری رہائی کس ڈیل کے نتیجے میں ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے رہا ہونے والے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان نے ایک بار پھر اپنی رہائی کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن علاقوں میں انھیں رکھا گیا وہاں تعلیم کی شدید کمی ہے لہذا ان کی خواہش ہے کہ اسلامیہ کالج کی ایک برانچ ان علاقوں میں بھی کھولی جائے تاکہ وہاں کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔

پشاور میں اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اجمل خان نے کہا کہ پہلے دو تین سال وہ تحریکِ طالبان پاکستان کی تحویل میں رہے۔ تاہم رہائی سے چند ماہ قبل تک وہ سجنا گروپ کی حراست میں تھے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں پہلے عام قبائلیوں کے مکانات میں رکھا گیا جہاں شدت پسند ان کی نگرانی کرتے تھے لیکن بعد میں حالات رفتہ رفتہ بہتر ہوتے گئے۔

اجمل خان کے مطابق ’انھوں نے طالبان سے کہا کہ خودکش حملے غیر اسلامی عمل ہیں۔ بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کی بھی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں لہذا وہ یہ جرائم نہ کریں۔‘

پروفیسر اجمل خان نے اپنی رہائی کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا تاہم بار بار سوال کرنے پر انھوں نے صرف اتنا کہا ’ انھیں بس یہ معلوم ہے کہ وہ رہا ہوکر اپنے گھر واپس پہنچ چکے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہیں، اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں جانتے۔‘

وائس چانسلر نے اس بات سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا کہ ان کی رہائی کسی ڈیل کے نتیجے میں ہوئی یا ان کے بدلے میں حکومت کی جانب سے طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا ہو۔

اجمل خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں جب انھیں اغواء کیا گیا تو اس وقت تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے اپنے چند ساتھیوں کی رہائی اور پیسوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم انھیں جب محسود طالبان کے حوالے کیا گیا تو انھوں نے ان کی رہائی کے بدلے میں کوئی شرط نہیں رکھی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دوران حراست سجنا گروپ ان کو کئی مرتبہ واضح کرچکا تھا کہ ان کی جانب سے رہائی کے بدلے میں بھی کوئی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔

وائس چانسلر سے جب سوال کیاگیا کہ چار سال کی طویل قید میں انھوں نے کیا کھویا اور کیا پایا تو اس پر انھوں نے کہا کہ چار سال کی قید کی مشکلات اپنی جگہ جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی دلی خِواہش ہے کہ ان علاقوں میں تعلیم کے شعبے میں کام ہونا چاہیے جہاں انھوں نے زندگی کے تلخ دن گزارے۔

پروفیسر اجمل کے مطابق قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تعلیم کی شدید کمی ہے ۔وہاں دینی تعلیم تو عام ہے لیکن دنیاوی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ۔

وائس چانسلرپروفیسر اجمل خان انٹرویو کے دوران خاصے ہشاش بشاش نظر آئے اور ان کی صحت بھی بہتر نظر آئی۔

اسی بارے میں