’فوج کی نگرانی پر سپریم کورٹ رضامند نہیں ہو گی‘

Image caption ملک میں انصاف فراہم کرنے کا سب سے بڑا ادارہ سپریم کورٹ ہے: ایس ایم ظفر

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ عدالتی کمیشن کی نگرانی فوج سے کروانے کے لیے سپریم کورٹ کبھی بھی رضا مند نہیں ہوگی کیونکہ عدلیہ ایک آزاد ادارہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو پھر صرف ایک ادارہ مضبوط ہوگا جبکہ ملک کے دیگر ادارے کمزور ہو جائیں گے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ یہ کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ اُس کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے کمیشن کی تحقیقات کی نگرانی فوج کے اہلکار کریں۔

اُنھوں نے کہا کہ پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ عدالتی کمیشن کو سنہ 2013 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کس حد تک مینڈیٹ دیا جاتا ہے۔

سعید الزمان صدیقی کا کہنا تھا: ’دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک عدالتی کمیشن کسی واقعے کی تحقیقات کرر ہا ہو اور فوج اُس کمیشن کی نگرانی کرے کہ کہیں کمیشن میں موجود جج اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کر رہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران اُنھوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ سپریم کورٹ کا ایک اعلیٰ سطحی کمیشن عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات کرے گا اور فوج اس ضمن میں غیر جانبدار رہے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی بطورِ وزیر اعظم موجودگی میں دھاندلی کی شفاف تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے استدعا کی ہے کہ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان کی طرف سے دھاندلی کی شکایات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک تین رکنی عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ تاہم ابھی تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عدالتی کمیشن تشکیل نہیں دیا ہے۔

سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے دھاندلی کی شکایات سے متعلق عدالتی کمیشن تشکیل دے دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں فوج کا یہ کردار ہو سکتا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے شواہد پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جائے تو فوج حکومت کو ایسا کرنے سے روکے۔

ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمات میں حساس اداروں اور سپریم کورٹ کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہو گئی تھیں۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالتی کمیشن کو دھاندلی کے شواہد تو الیکشن کمیشن نے دینے ہیں اور اسے پہلے ہی متنازع بنا دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ان انتخابات میں خود عدلیہ کا کردار بھی تسلی بخش نہیں رہا ہے اور ریٹرنگ افسران کے کردار پر بھی اُنگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں۔

کنور دلشاد نے کہا: ’جب ملک میں سیلاب یا امن و امان کی خراب صورت حال میں جب فوج کو بُلایا جا سکتا ہے تو پھر یہ تو ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے اس میں فوج کو کردار ادا کرنے کے لیے کیوں نہیں کہا جا سکتا؟‘

اسی بارے میں