آرمی چیف سے ملاقاتیں: ’آئی ایس پی آر وضاحت کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئی ایس پی آر کی جانب سے وضاحت ہونی چاہیے کہ آرمی چیف عمران اور قادری کی درخواست پر ان سے ملے: خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما خورشید شاہ نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طاہر القادری اور عمران خان سے ملاقات کی وضاحت کریں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ دو یونین کونسلوں کی تعداد کے برابر افراد جمہوریت اور آئین کو یرغمال بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں، آئی ایس پی آر کی جانب سے وضاحت ہونی چاہیے کہ آرمی چیف ان کی درخواست پر ان سے ملے۔

انھوں نےکہا کہ فوج کا ادارہ ہمارے لیے بہت قابل احترام ہے اور 245 کے تحت حکومت نے انھیں بلایا بھی ہے، تاہم یہ بتایا جائے کہ ’آرمی چیف عمران خان اور طاہر القادری کی درخواست پر ان سے ملے تاکہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام کے سامنے ان کا چہرہ واضح ہو جائے کہ وہ پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی اور جمہوریت نہیں چاہتے۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما نے وزیراعظم کو اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ڈٹ جائیں اور جمہوریت اور آئین پر سودا بازی نہ کریں۔

خورشید شاہ نے اپنے روایتی انداز سے ہٹ کر نہایت جوشیلے انداز میں تقریر کی اور کہا کہ جمہوری اور آئینی حل یہی ہے کہ ہم اپنے اداروں کو کسی ڈکٹیشن کے سامنے جھکنے نہ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دین، جمہوریت اور جھوٹی انا کے نام پر خواتین کو بھی بہکایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: ’اگر یہ آنا چاہتے ہیں تو آنے دیں، پارلیمنٹ کو جلانا چاہتے ہیں تو جلانے دیں، اسلام آباد کو جلانا چاہتے ہیں تو جلا دیں۔‘

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومتیں آنی جانی چیزیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس ہے کہ گذشتہ روز نواز شریف کی سیاست کو داغ لگانے کی کوشش کی گئی۔

’ہمیں حکومت کو بچانے کا درد نہیں آئین اور پارلیمنٹ کو بچانے کا درد ہے اور اگر حکومت جھک بھی گئی تو ہم نہیں جھکیں گے، ہم دیکھتے ہیں کہ کون ہماری جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔‘

اس موقعے پر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج شب 24 گھنٹے پورے ہو جائیں گے تاہم جو فرمودات آج وزیراعظم نے جاری کیے ہیں وہ گذشتہ شب کیوں نہیں جاری کیے گئے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 20 کروڑ عوام کو کیوں ابہام میں کیوں رکھا گیا اگر یہ پہلے بتا دیا جاتا تو ہمارا قد کاٹھ بڑا ہو جاتا۔

انھوں نے سوال کیا کہ جب تمام ٹی وی چینلوں پر یہ خبر نشت ہورہی تھی کہ وزیراعظم کی درخواست پر آرمی چیف ثالثی کریں گے تو ہمارے وزیر کیا کر رہے تھے: ’اس قسم کی غلطیاں کسی اور حکومت میں ہوتیں تو درجن بھر وزیروں کو نکال دیا گیا ہوتا۔‘

اسی بارے میں