جو مطالبات ماننے والے تھے مان لیے ہیں: وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’موجودہ صورتحال کے باعث پہلے سری لنکا کے صدر نے اسلام آباد کا دورہ منسوخ کی اور اب مالدیپ کے صدر نے بھی اپنا دورہ پاکستان منسوخ کردیا ہے‘

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے عمران خان اور طاہرالقادری کے مطالبات کے حوالے سے کہا ہے کہ جو مطالبات ماننے والے تھے وہ مان لیے گئے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ان کے اصل مطالبات کو مان لیا گیا ہے۔ ’اصل مطالبات جیسے جمہوری اصلاحات ہیں اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن ہے۔ یہ تو مان لیے گئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’مطالبات جیسے میرا استعفیٰ، قومی اسمبلی کی تحلیل، صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل جن کو کرنے کی پاور میرے پاس ہے ہی نہیں۔‘

نواز شریف نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یہ ہیجانی کیفیت ہے جو ایک دو روز میں ختم ہو جائے گی‘۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث پہلے سری لنکا کے صدر نے اسلام آباد کا دورہ منسوخ کی اور اب مالدیپ کے صدر نے بھی اپنا دورہ پاکستان منسوخ کردیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب چین کے صدر نے آنا ہے اور بہت اہم معاہدوں پر دستخط ہونے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ان کی بنی گالا والی رہائشگاہ پر ملاقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا ’بنی گالا میں کھل کر بات ہوئی اور اس کے بعد آناً فاناً ہو کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کیسے عمران خان اور کیسے طاہرالقادری اور کیسے دوسروں کو خیال آ گیا کہ ایک ہی دن اسلام آباد جانا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ’آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان دھرنوں میں لوگ کتنے ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ یہ کرسیوں کا سمندر ہے۔‘

اسی بارے میں