مظاہرین پر پولیس کی شدید شیلنگ، متعدد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طبی حکام کے مطابق شیلنگ کے نتیجے میں 18 افراد زخمی ہو گئے ہیں

اسلام آباد میں پولیس نے شاہراہ دستور سے وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے والے مظاہرین پر شدید شیلنگ کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے اپنی احتجاجی دھرنے شاہراہ دستور سے وزیراعظم ہاؤس کے سامنے منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انقلاب مارچ کے شرکا کی طرف پیش قدمی کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ہے۔

اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پیمز کے ترجمان ڈاکٹر وسیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شیلنگ سے 18 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پولیس کی جانب سے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں چلانے کی بھی اطلاعات ہیں۔پولیس کے مطابق مظاہرین کو سیکریٹیریٹ کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حکومت نے فوج کے مزید دستے طلب کر لیے ہیں۔

سرکاری ریسکیو ادارے 1122 کے مطابق پولیس کی شیلنگ اور اس کے بعد بھگدڑ کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کنٹینر میں اپنے کارکنوں کے ساتھ عوامی تحریک کے کارکنوں کے پیچھے موجود ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اپنے سٹیج سے اعلان کیا ہے کہ ’فوج نے کہہ دیا ہے کہ وہ کچھ نہیں کریں گے‘۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان نے اپنے کارکنوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ عمران خان نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ عوامی تحریک کے پیچھے وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے سنیچر کی شام کو مظاہرین کو روکنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی تھیں

عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے شام کو ہی اپنے کارکنوں کو شاہراہ دستور سے اپنے شامیانے ہٹانے کا حکم دے دیا تھا اور اس بعد رات کے وقت انھوں نے اعلان کہ اب احتجاجی دھرنا وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دیا جائے گا۔

اس کے فوری بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی وزیراعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت نے وزیراعظم ہاؤس سمیت ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے حوالے کر رکھی ہے۔ دونوں احتجاجی جماعتوں نے دھرنے جب آبپارہ سے شاہراہ دسور پر منتقل کرنے کے لیے مارچ شروع کیا تھا تو اس وقت فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ریڈ زون میں واقع عمارتیں ریاست کی علامت ہیں اور ان عمارتوں کی حفاظت فوج کر رہی ہے۔

اسی بارے میں