بلوچستان: ایک اور سکول نذرِ آتش

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ضلع کیچ میں پرائیویٹ اسکول کو جلانے کا یہ پہلا واقعہ ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں بھی ایک نجی اسکول کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

کیچ میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ضلع کیچ کے علاقے بل نگور میں پیش آیا۔

ذرائع نے بتایا کہ منگل اور پیر کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے بل نگور بازار میں گوربام کے نام سے قائم پرائیویٹ سکول کو نذر آتش کیا۔آگ کے باعث سکول میں موجود کتابیں، فرنیچر اور کمپیوٹر جل گئے۔

اطلاعات کے مطابق سکول کو نذر آتش کرنے والوں نے وہاں الجہاد کے نام سے پمفلٹ بھی پھینکے تھے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو انگریزی نہ پڑھائیں بلکہ ان کو دینی تعلیم دلائیں۔

ضلع کیچ میں کسی پرائیویٹ سکول کو جلانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس سے قبل اس سے متصل ضلع پنجگور میں پرائیویٹ سکولوں کو دھمکیاں ملی تھیں اور حملوں کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں، تاہم مکران ڈویژن میں پرائیویٹ سکولوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ موجود ہ صوبائی حکومت کے دور میں شروع ہوا ہے۔

پنجگور میں پرائیویٹ سکولوں کو ایک غیر معروف تنظیم ’الفرقان اسلامی‘ کے نام سے دھمکی دی گئی تھی۔

پنجگور میں اس تنظیم کی جانب سے جو دھمکی آمیز خط بھیجا گیا تھا اس میں یہ تنبیہ کی گئی تھی کہ پرائیویٹ سکول طالبات کو نہ پڑھائیں جبکہ والدین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی بچیوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں۔

پرائیویٹ سکولوں کو دی جانے والی دھمکیوں اور حملوں کے بعد پنجگور میں تمام پرائیویٹ سکول تین ماہ تک ماہ تک بند رہے تاہم اگست کے وسط میں ان کو دوبارہ کھول دیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے قبائلی علاقوں میں سرکاری سکولوں کی ایک بڑی تعداد کو شدت پسندوں نے نقصان پہنچایا ہے۔

اسی بارے میں