’یہ دھرنا ہے نہ احتجاج، پاکستان کے خلاف بغاوت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پارلیمان کی عمارت کے احاطے پر اس وقت مظاہرین کا قبضہ ہے جبکہ عمارت کے اندر جانے والے راستوں پر دروازوں پر فوج تعینات ہے

پاکستانی پارلیمان نے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں سیاسی رہنماؤں نے جہاں جمہوریت کے تحفظ کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے وہیں حکومت نے ایوان سے کہا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ احتجاجی دھرنے بغاوت ہیں یا نہیں۔

اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کی جانب سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے تناظر میں پارلیمان کا خصوصی مشترکہ اجلاس منگل کی صبح شروع ہوا۔

وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اجلاس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں نہ دھرنا ہے نہ احتجاج ہے اور نہ یہ سیاسی عمل ہے، بلکہ یہ پاکستان کے خلاف بغاوت ہے۔

خصوصی اجلاس بلوانے کا مقصد بتاتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ایوان اگر اسے بغاوت سمجھتا ہے تو ’پارلیمان موجودہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے حکومت اور قوم کی رہنمائی کرے۔‘

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی نے جو کہا ہے اس کے صحیح اور غلط ہونے کی میں کوئی گواہی نہیں دینا چاہتا۔

انھوں نے بتایا کہ میرے پاس ثبوت ہیں کہ ان لوگوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ فوج کا نام استعمال کیا ہے

چوہدری نثار نے تجویز دی کہ ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جس میں عمران خان اور جاوید ہاشمی کو بلایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے اپنی سیاست میں عدلیہ کو ملوث کرنے کی کوشش کیوں کی؟

مشترکہ اجلاس سے خطاب میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے حکومت پر کڑی تنقید کی تاہم یہ بھی کہا کہ اپوزیشن موجودہ صورتحال میں حکومت کے ساتھ غیر مشروط طور پر کھڑی ہے۔

’ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن مجبوراً کھڑے ہیں۔ ہمارے ساتھ آپ کا سلوک ظالمانہ رہا ہے۔ آپ کے ساتھ ہماری حمایت غیر مشروط ہے، لیکن امید ہے کہ انتشار کے بعد آپ اپنی کارکردگی پر غور و فکر کریں گے۔‘

چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ باہر جو لشکری کھڑے ہیں ان کے الزامات میں بڑی حد تک صداقت ہے۔ میں نے خود ایک حلقہ دیکھا ہے کہ جس میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔

اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن نے جہاں حکومت پر تنقید کی اور عمران خان سے سوال کیا کہ ’وہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کس سیارے پر ہے جہاں دو تین ہزار ہتھوڑوں، ڈنڈوں، کرینوں سے اور کیل کانٹے سے مسلح جتھے کو ہلہ بولنے کی اجازت دی جاتی ہے‘۔

انھوں نے فوج کی لاعلمی پر بے اعتباری کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ ’فوجی بڑا باخبر ہوتا ہے، کور کمانڈرز بڑے باخبر ہوتے ہیں، انھیں نظر نہیں آتا کہ قادری اور عمران 20 دن سے قوم کو کہہ رہے ہیں کہ آخری وقت ہے، کسی نے ان کی باتوں پر کان نہیں دھرا؟‘

حکومت کی اتحادی جماعت پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود اچکزئی نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آئین کی پاسداری کے لیے تمام ادارے آپ کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ احتجاج نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اور میڈیا اسے بڑھاوا دے رہا ہے۔‘

محمود خان اچکزئی نے ماڈل ٹاؤن واقعے پر بروقت ایف آئی آر درج نہ کرنے اور اسے سنجیدگی سے نہ لینے پر حکومت پر تنقید بھی کی۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کے اتحادی جمیعت علما السلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ تاثر دیا جا رہا کہ کہ اداروں میں تصادم ہے تاہم حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام آباد کو ان جتھوں سے پاک کریں۔

’ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ طاقت کا استعمال نہ کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایوان میں موجود سیاسی جماعتوں نے عمران خان اور طاہر القادری کے احتجاجی دھرنوں کے دوران ریاستی اداروں پر حملوں کی مذمت کی

توقع کی جا رہی تھی کہ شاید پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے وزیراعظم بھی خطاب کریں تاہم پاکستان تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کے خطاب کے بعد اجلاس بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

اپنے خطاب میں جاوید ہاشمی نے منگل کے روز کیے جانے والے انکشافات کو دہرانے کے ساتھ ساتھ اپنے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا۔

انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر پارلیمان کو نظر انداز کیا جائے گا تو اسے گرانے کی آوازیں آئیں گی۔

جاوید ہاشمی نے ایک بار پھر کہا کہ عمران خان نے انھیں بارہا وعدے کیے کہ وہ آئین اور پارلیمنٹ کے خلاف نہیں جائیں گے۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کی جانب سے خالد مقبول صدیقی نے اپنی جماعت کے موقف کو دہرایا۔

’وزیراعظم ایوان میں جمہوریت کے کپتان ہیں اور اگر کوئی قربانی کے لیے ان سے توقع رکھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ان سے بڑے پن کی توقع رکھتا ہے۔‘

ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت اسمبلی میں اپنی 25 نشستیں گنوانے کو تیار ہے۔

انھوں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے کراچی کو آزاد کرانے کی بات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تاہم پاکستان عوامی تحریک کے حوالے سے کہا کہ ان کی تجاویز کو سنا جائے۔

سینیٹ اور قومی اسمبلی کا یہ مشترکہ بلانے کا فیصلہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کی تجویز پر کیا گیا۔

اسی بارے میں