معاملہ اب سیاسی تنازع نہیں رہا ہے: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری اعتزاز احسن پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے

سپریم کورٹ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام اور اسلام آباد میں دھرنوں سے متعلق 15 سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت اس معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کی طرف سے ایک درخواست عدالت میں پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں دو جماعتوں کی طرف سے دھرنوں کی وجہ سے پوری حکومت مفلوج ہوکر رہ گئی ہے اس کے علاوہ لوگوں کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

’بحران کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار‘

انھوں نے کہا کہ چند ہزار لوگوں پارلیمانی نظام کو لپیٹنے کی بات کر رہے ہیں جو کہ کروڑوں ووٹروں کے حق پر ڈاکہ ہے جنھوں نے اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے پارلیمان میں بھیجا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان دو جماعتوں کی قیادت کی جانب سے ایسے بیان سامنے آ رہے ہیں جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی جنگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے کے حل کے لیے پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں سے بھی تجاویز لی جائیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے اس لیے عدالت اس معاملے سے خود کو دور رکھے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت اس معاملے کے حل کے لیے عدالت میں کوئی تجاویز جمع نہیں کروائے گی جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اب سیاسی تنازع نہیں رہا اور عدالت اس معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ آئین اور لوگوں کے حقوق کا تحفظ عدالتِ عظمی کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس نے گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کی جانب سے عمران خان کے ساتھ ملاقات سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اُن کا کبھی بھی عمران خان کے ساتھ بلواسطہ یا بلا واسطہ رابطہ نہیں رہا۔

جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا کہ اُن کی عمران خان سے صرف ایک بار ملاقات ہوئی تھی جب وہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر تھے اور اس ملاقات میں عمران خان کے وکیل حامد خان بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں انتخابات میں بائیو میٹرک سسٹم سے متعلق بات کی تھی۔

بینچ میں موجود جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اس ملاقات سے متعلق ایک ٹی وی چینل کے ٹاک شو پر عدلیہ کو ننقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ کم از کم ایسے اداروں کو تو تنقید کا شنانہ نہ بنائیں جہاں سے لوگوں کو انصاف ملتا ہے۔

پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق درخواستوں میں فریق بننے کا فیصلہ کیا تھا تاہم سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کو سپریم کورٹ کے دیے جانے والے نوٹس کے بعد سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی نئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔

چوہدری اعتزاز احسن پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔

اسی بارے میں