’لوگوں کو بہت سی جگہیں خالی کرنا پڑیں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’تمام سیاسی جماعتوں سے چار ستمبر تک اس معاملے کے حل کے لیے تجاویز عدالت میں جمع کروانے کا حکم‘

سپریم کورٹ نے حکومت سے شاہراہ دستور پر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

عدالت نے دھرنوں کے شرکاء کی حفاظت کے لیے اُٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔

عدالت نے یہ حکم چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام اور اسلام آباد میں دھرنوں سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دھرنا دینے والی جماعتوں کے قائدین عدالت میں کچھ اور بیان دیتے ہیں جبکہ عدالت کے باہر اُن کا رویہ بالکل برعکس ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کا احاطہ ایک خمیہ بستی بنا ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس بھی سپریم کورٹ کی طرح ایک مقدس ادارہ ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں مظاہرین کا قبضہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ ہاؤس خالی کروانے کا حکم دے جس پر بنچ میں موجود جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کسی کو سرکاری عمارتوں اور سڑکوں پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ جب عدالت حمتی فیصلہ دے گی تو بہت سے لوگوں کو بہت سی جگہیں خالی کرنا پڑیں گی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں کی قیادت سے بات کرنے کے لیے ایک جرگہ بنایا گیا ہے جو ان سے بات کر رہا ہے۔

پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین اپنے حقوق کے لیے اسلام آباد آئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے شیلنگ کی وجہ سے مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ شیخ رشید کو حکم دیں کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس کا احاطہ خالی کروائیں جس پر عدالت نے پاکستان عوامی لیگ کے صدر کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کو کہا۔ جس پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی حکم ان دونوں جماعتوں کے قائدین تک پہنچا دیں گے۔

عدالت نے تمام سیاسی جماعتوں سے چار ستمبر تک اس معاملے کے حل کے لیے تجاویز عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں