دھرنوں کے بعد شہباز شریف میڈیا سے دور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ چند روز سے وزیراعلیٰ پنجاب نے کوئی اہم پریس کانفرنس نہیں کی

لاہور سے طاہرالقادری کے انقلاب مارچ اور تحریک انصاف کے آزادی مارچ کی روانگی کے بعد سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف میڈیا سے کچھ فاصلے پر رہ رہے ہیں اور انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں بھی کچھ محدود کررکھی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی میڈیا میں موجودگی ان بیانات کی حد تک رہ گئی ہے جو پنجاب کا سرکاری محکمہ ان کی جانب سے جاری کرتا ہے۔

گذشتہ چند روز سے وزیراعلیٰ پنجاب نے نہ تو کوئی اہم پریس کانفرنس کی اور نہ ہی کسی مقام پر میڈیا کے نمائندوں سے سوال جواب کیے گئے۔

ابلاغیات کے استاد اور تجزیہ نگار ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی خاموشی کی وجہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس آپریشن کے دوران 14 افراد کے قتل کا معاملہ ہے جس کے مقدمے میں وہ نامزد ہیں اور اس ابتدائی مرحلے پر انھیں بری الذمہ قرار دینا مشکل ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ امکان موجود ہے کہ حکومت اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان شہباز شریف کے استعفی پر معاملات طے پا جائیں اور احتجاج کرنے والوں کو یہ کہا جائے کہ ’دونوں میں سے ایک کا استعفی تو آگیا ہے۔اب عدالتی کمیشن کی رپورٹ کاانتظار کر لیا جائے اگر کمیشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ثابت ہو جائے تو وزیر اعظم سے بھی استعفی لیا جا سکتا ہے اور اگر دھاندلی نہ ثابت ہو تو استعفی نہیں لیا جائے گا۔‘

لاہور کے ایک اخبار کے رپورٹر خواجہ فرخ سعیدنے بتایا کہ اگرچہ میڈیا کے نمائندوں کو کوریج کے لیے نہیں بلایا جاتا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنے مختلف سرکاری کام کر رہے ہیں اور ان کی تشہیر کے لیے صرف سرکاری میڈیا کا استعمال کیا جاتا ہے۔

مسلم لیگ نون کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی میں چہ مگوئیاں جاری ہیں اور اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ اگر شہباز شریف مستعفی ہوتے ہیں تو کس کو وزیراعلی بنایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں