’بیان بازی بند کریں ورنہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ جائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سراج الحق نے کہا کہ حکومت کے بعض وزرا کے بیان بازی سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں

پاکستان میں جاری سیاسی بحران پر قابو پانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی جرگے کے رکن رحمان ملک نے کہا ہے کہ اگر حکومت، پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بند نہ کی تو جرگہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

پاکستان عوامی تحریک سے مذاکرات کے بعد سیاسی جرگے کے رکن اور پی پی پی کے رہنما رحمان ملک نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت، پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے درمیان الزام تراشی اور بیان بازی بند نہ ہوئی تو جرگہ مذاکرات سے ود ڈرا یا پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

رحمان ملک نے کہا کل تک ہم سوچ رہے تھے کہ فریقین کے درمیان تصادم ختم ہو رہا ہے لیکن جمعرات کو جو بیان بازی ہوئی اس سے لگتا ہے کہ تصادم کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ ایک طرف پارلیمان ہے اور دوسری طرف گلیوں میں احتجاج کی سیاست ہے جو دنیا بھر میں ہوتا رہتا ہے۔

انھوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں۔ انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی سے اپیل کے کے پارلیمان کے اندر گالی گلوچ بھری بیان بازی پر کٹرول کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر کے پاس اختیار ہے کہ کسی رکن کی رکنیت کو معطل کرے۔

انھوں نے حکومت سے احتجاج کرنے والی جماعتوں کے کارکنان کو رہا کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک نکتے کے علاوہ فریقین کے درمیان باقی تمام نکات پر اتفاق ہوا ہے۔

اس موقع پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ رحیق عباسی نے کہا کہ سیکریٹریٹ کے لان سے ان کے کارکن نکل رہے ہیں اور اسے صبح تک خالی کر لیں گے جبکہ سیکریٹریٹ کا راستہ بھی کھول دیا جائے گا۔

انھوں نے بھی حکومتی ارکان کی طرف سے پارلیمان میں عوامی تحریک کے خلاف بیان بازی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک حکومتی وزیر نے ان کے ساتھ خوشگوار ماحول میں مذاکرات کیے اور پھر جا کر ان کے خلاف بیان بازی کی۔

سیاسی جرگے میں شریک سراج الحق نے کہا کہ حکومت کے بعض وزرا کے بیان بازی سے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈیڈ لاک ختم ہو چکا ہے اور مذاکرات آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ بعض سیاسی و قانونی مشکلات ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ ہماری کوشش ہے کہ یہ سیاسی بحران جلد سے جلد ختم ہو جائے۔

اسی بارے میں