چاہوں تو پارلیمان ختم کردوں: اعتزاز احسن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری اعتزاز احسن نے مشترکہ ایوان سے خطاب میں چوہدری نثار علی خان کو آڑے ہاتھوں لیا

پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خود پر وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کے اعتراضات کی شدید مذمت کی۔

انھوں نے کہا کہ وہ شاید پاکستان کے واحد سیاست دان ہیں جنھوں نے چار فوجی حکومتوں کی مخالفت کی ہے، اور اکثر سیاسی حکومتوں میں بھی حزبِ اختلاف میں رہے ہیں۔

چوہدری اعتزاز احسن نے حکومتی بینچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’دو بار پہلے آپ کا یہی انجام ہو چکا ہے جسے ہم روک کر بیٹھے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ اگر میں اس وقت ایوان سے واک آؤٹ کروں تو تمام حزبِ اختلاف میرے ساتھ واک آؤٹ کرے گا، اور دھرنے والے کامیاب ہو جائیں گے۔

’میں چاہوں تو سب کو لے جاؤں آج پارلیمان سے، دھرنے کے خلاف مزاحمت ختم کردوں، ختم کردوں اس پارلیمنٹ کو۔‘

یاد رہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے ایک روز قبل اعتزاز احسن پر مالی بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے۔

اعتزاز احسن کی تقریر کے دوران چوہدری نثار اپنی نشست سے اٹھ کر وزیرِ اعظم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ اس موقعے پر اعتزاز احسن نے چوہدری نثار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اب بھی مجھے گھور رہے ہیں۔‘

انھوں نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے ابتدائی 15 دنوں میں آپ کے وزیروں کے چہروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ جیسے ان پر آسمان ٹوٹنے والا ہو: ’لیکن اب وہ عمران خان اور قادری کی نقلیں اتارتے ہیں۔، یہ سب ایوان کی طاقت ہے، اور پارلیمنٹ آپ کے پیچھے کھڑی ہے۔‘

چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ’جنابِ وزیرِ اعظم صاحب جو لوگ آپ کو چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں آپ کب تک معذرتیں پیش کرتے رہیں گے؟‘

انھوں نے کہا کہ جب چوہدری افتخار چیف جسٹس کے عہدے پر بحال ہوئے تو لوگ میرے پاس نوٹوں سے بھرے سوٹ کیس لے کر آتے تھے کہ ہمارا مقدمہ لڑو۔ لیکن میں نے کہا کہ میں نے ان کو بحال کروایا ہے اس لیے میں ان کے سامنے کیس نہیں لڑوں گا۔

اعتزاز احسن کی تقریر سے قبل وزیرِ اعظم نواز شریف نے ایوان سے خطاب میں اعتزاز احسن کے خلاف الزامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت کی تھی۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے اس بات سے واقعتاً بڑی تکلیف ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اعتزاز احسن میرے ساتھی ہیں اور ان سے تعلق رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے ایک بڑا مسئلہ ہے، ہمیں ادھر ادھر کی باتوں میں الجھنا نہیں چاہیے۔

اسی بارے میں