’استعفیٰ نہیں دیں گے، دھاندلی ثابت ہوئی تو اسمبلی تحلیل ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کے بارے میں تحریک انصاف کی بعض تجاویز مان لی گئی ہیں

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ملک میں جاری سیاسی بحران حل کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات پر شق وار جواب پارٹی قیادت کو بھجوا دیا ہے جس میں الزامات ثابت ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔

صحافیوں کو وزیراعظم ہاؤس کے سرکاری ای میل ایڈریس سے اس مسودے کی نقل بھجوائی گئی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کردہ تحریری مطالبات کا شق وار جواب ہے۔

اسلام آباد میں انقلاب اور آزادی مارچ: لائیو اپ ڈیٹس

تحریک انصاف نے یہ تحریری تجاویز پچھلے ہفتے حکومت کو پیش کی تھیں جب فوج کی مداخلت کے بعد فریقین نے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے مذاکرات شروع کیے تھے۔

ان مذاکرات میں تحریک انصاف نے سیاسی بحران کے حل کے لیے اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کیے تھے اور ان کا تحریری جواب طلب کیا تھا۔

حکمران جماعت کی جانب سے جمعے کے روز تحریک انصاف کو بھجوائی گئی ان جوابی تجاویز میں وزیرِ اعظم کے استعفے کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے تاہم گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کے بارے میں تحریک انصاف کی بعض تجاویز مان لی گئی ہیں۔

ان میں سے ایک اس کمیشن کو وزیراعظم کے حکم یا صدارتی آرڈیننس کے بجائے پارلیمنٹ سے قانون سازی کے ذریعے قائم کرنا ہے۔ حکومت نے اس تجویز سے بھی اتفاق کیا ہے کہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان مناسب سمجھیں تو وہ اس کمیشن کے سربراہ بنائے جا سکتے ہیں۔

تاہم حکومتی جماعت نے اس کمیشن کو سرسری سماعت کے بجائے دھاندلی کے الزامات کی تفصیلی تفتیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کمیشن کو تمام عدالتی اختیارات دیے جائیں گے اور میں پیش کی جانے والی گواہیوں اور ثبوت کو قانون شہادت کے تحت قانونی حیثیت حاصل ہو گی۔

مسلم لیگ (ن) نے اس کمیشن کے طریقہ کار اور شرائط کار کے بارے میں تحریک انصاف کی بعض تجاویز سے اختلاف کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ اس مجوزہ کمیشن کو اختیار دے دیا جائے کہ وہ ان دونوں نکات کا فیصلہ خود کرے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیشن اپنی رپورٹ تیس دن میں پیش کرے گا لیکن اس مدت میں کمیشن چاہے تو توسیع بھی کر سکتا ہے۔

کمیشن کی رپورٹ کو فوری طور پر عوامی آگہی کے لیے جاری کرنے اور کمیشن کے فیصلے پر عمل لازم ہونے کی بات بھی کی گئی ہے۔

مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے کہ مجوزہ کمیشن انفرادی حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے کی بجائے مئی 2013 کے الیکشن میں مجموعی طور دھاندلی کی تحقیقات کرے۔

خیال رہے کہ اپنی تجاویز میں پی ٹی آئی نے اس کمیشن سے 30 منتخب حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کروانے کی تجویز دی تھی۔

حکومت نے یہ تجویز رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ کمیشن الیکشن ٹربیونلز کی طرز پر دھاندلی کی درخواستوں کی سماعت کا مجاز نہیں ہوگا اور پی ٹی آئی کی ’سپر‘ الیکشن ٹربیونلز کے قیام کی تجویز ناقابلِ عمل ہے۔

تاہم حکومتی جماعت نے تحریک انصاف کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے قیام کی تجویز سے بھی اتفاق کیا ہے۔ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات میں عدالتی کمیشن کی معاونت کے لیے بننے والی اس ٹیم کا سربراہ اتفاق رائے سے مقرر کیا جائے گا۔

ان تحقیقات کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نادرا کے سربراہ اور الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کے عہدے پر نئی تقرریاں کی جائیں گی۔

حکومت نے مستقبل میں انتخابات کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات پر بھی اتفاق کیا ہے اور اس مقصد کے لیے تحریک انصاف کی اس تجویز کو تسلیم کیا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے بنائے گئے پارلیمانی کمیشن کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی قائم کی جائے۔

پارلیمانی کمیشن اگلے 40 روز کے اندر اپنی تجاویز پیش کرنے کا پابند ہے۔

حکومت کی جانب سے اس شق وار جواب ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ شاہ محمود قریشی نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس تحریری جواب کا ایک اور تحریری جواب تیار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب سب کچھ تحریری شکل میں ہو گا۔ ہم نے زبانی وعدوں کا حشر دیکھ لیا ہے۔‘

اسی بارے میں