پشاور: فائرنگ میں ایک سکھ دکاندار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خیبر پختونخوا میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران اقلیتی براداری پر یہ اپنی نوعیت کا یہ تیسرا حملہ ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک سکھ تاجر کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کو پشاور شہر کے گنجان آباد علاقے نوتھیہ بازار میں پیش آیا۔

گلبرک پولیس سٹیشن کے انچارج ریاض علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈبگری گارڈن سے تعلق رکھنے والے سکھ تاجر ارجیت سنگھ اپنی دکان میں موجود تھے کہ مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

اس واقعہ کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکی۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور دو تھے جو واردات کے بعد فرار ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے جائے وقوعہ کے اردگرد واقع علاقے سے چند مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران اقلیتی براداری پر یہ اپنی نوعیت کا یہ تیسرا حملہ ہے۔

ایک ماہ قبل پشاور میں ہشت نگری کے علاقے میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے دکانداروں پر حملہ کیا گیا تھا جس میں ایک سکھ ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

پشاور میں مقیم سکھ برادری کی جانب سے اس واقعے کے خلاف مظاہرے بھی کیےگئے تھے۔

چند دن قبل مردان میں بھی ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک دکاندار کو مسلح افراد نے چاقوں کے وار کرکے ہلاک کردیا تھا۔

مرنے والے شخص کے بارے میں ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ ان کا تعلق سکھ برادری سے ہیں تاہم بعد میں معلوم ہوا وہ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔

چند ماہ قبل پشاور سے محلق ضلع چارسدہ میں بھی سکھ حکیموں پر حملے کئے گئے تھے جس میں دو سکھ مارے گئے تھے۔

قبائلی علاقوں میں سکھوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ اور وہاں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث اب بیشتر سکھ خاندان پشاور منتقل ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں