شکر ہے یہ فلم ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اسلام آباد میں تین ہفتے سے لگی فلم ’دھرنا‘ کو اگر کوئی اچھا ایڈیٹنگ کرنے والا مل جاتا تو یہ دو گھنٹے کی بہترین ہٹ فلم ثابت ہوسکتی تھی جس میں ہیرو اور سائیڈ ہیرو فاتحانہ گھر لوٹتے۔ مگر خرابی یہ ہوئی کہ کلائمکس کے تین گھنٹے بعد بھی کہانی گول گول گھوم رہی ہے اور ناظرین اباسیاں لیتے ہوئے دعا کر رہے ہیں کہ پردے پر کب دی اینڈ لکھا نظر آئے اور ہال کی بتیاں روشن ہو جائیں۔

سسپنس، بہترین مکالموں، اسکرین پلے، موسیقی، آئٹم سانگ، محنتی عکاسی، پروسیسنگ، ڈبنگ اور انتہائی پبلسٹی کے باوجود کسی اچھے ایکشن تھرلر کی بری ایڈیٹنگ اور غیر ڈرامائی انجام پوری فلم کا مزہ کرکرا کر دیتا ہے ۔ہدایت کار اگر اپنی ہی فلم کے عشق میں مبتلا ہوجائے تو پھر یہی ہوتا ہے۔

مگر یہ اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ یہ ایک نئے انداز کا ایکشن تھرلر ہے اور آنے والے دنوں میں اس سبجیکٹ پر خاصی فلمیں بنیں گی۔ بس باکس آفس پر کامیابی کے لیے کہانی کے ذہین ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے۔

کہانی بہت آسان ہے۔ خود سے، زندگی سے، اردگرد سے بیزار اور مستقبل سے ناامید لوگوں کی کہانی، جن کے گلے میں ہر طرح کے استحصال کا خاردار پٹو پڑا ہے۔

اس پٹو کے ساتھ جو ایک لمبی سی چمکیلی زنجیر جڑی ہے وہ ان ہاتھوں میں ہے جن کا خیال ہے کہ کتا ہر حال میں وفادار ہی رہے گا بھلے مالک کیسا بھی ہو کوئی بھی ہو۔گھوڑا بہر صورت مالک کو دولتی نہیں ٹکائےگا بھلے چارہ ملے نہ ملے۔گدھا کبھی مالک کا بوجھ اٹھانے سے انکاری نہیں ہوگا چاہے اس کی چاروں ٹانگیں ریڑھے کے بوجھ سے ہوا میں معلق ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ بلی دس گھر بھی پھر لے تب بھی شام گئے مالک کے پاس ہی لوٹے گی۔ بھینس مالک کی بالٹی ہمیشہ ہی دودھ سے ہنسی خوشی بھرتی رہے گی چاہے اس کے نوزائیدہ بچے کے لیے بھی تھنوں میں دودھ باقی رہے نہ رہے ۔باڑے کے سانڈ کے قریب سے رات گئے بھاری زنجیر چھناکے سے گذار دی جائے تو وہ ہمیشہ کی طرح یہی سوچ کے صبح تک اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا کہ اس کے پیروں میں واقعی زنجیر پڑی ہے۔

ذرا سوچیے اگر کسی روز کتے یا بلی کو پتہ چل جائے کہ مالک اس کے نام کا آدھا گوشت خود کھا جاتا ہے۔گھوڑے پر آشکار ہوجائے کہ ریس جیتنے کے انعام میں بھی مالک اسے گھاس ہی ڈالتا ہے۔گدھے کو معلوم ہوجائے کہ مالک اس پر دوگنا بوجھ محض اس لیے لادتا ہے تا کہ دوسرے چکر کے پیسے بچا کر نئے بوجھ کا آرڈر پکڑ لے۔ بھینس پر یہ راز کھل جائے کہ مالک وہ دودھ بھی بیچ دیتا ہے جس پر بچھڑے کا حق ہے۔ بیل کو کوئی کان میں کہہ دے کہ تیری جوتی زمین کی لہلہاتی فصل میں سے تیرا مقدر صرف چارہ ہی ہے، تو سوچیے کہ یہ جانور اپنے مالکوں کے ساتھ کیا کریں گے۔

بس یہی کہانی ہے دھرنا فلم کی۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ فلم اپنے تکنیکی اناڑی پن کے سبب سپر ہٹ نہیں ہو سکی، مگر اس ناکامی پر فارمولا ہدایت کاروں کو خوش ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ یہ کہانی اس قدر حقیقی اور جاندار ہے کہ اگر اسے کوئی پروفیشنل، ذہین اور تماشائیوں کی نبض سمجھنے والا ڈائریکٹر مل گیا تو پھر وہ سب کے باجے پھاڑ ڈالےگا۔

اس لیے تمام فارمولا پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز سے التجا ہے کہ فلم دھرنا کی جزوی ناکامی پر ان صاحب کی طرح بغلیں بجانے سے پرہیز کریں جنہوں نے ایک بلیو فلم دیکھتے ہوئے اچانک محسوس کیا کہ یہ تو ان کی گرل فرینڈ ہے۔ صاحب کا رنگ پیلا پڑ گیا ۔پھر انہوں نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے خود سے کہا

شکر ہے یہ فلم ہے!

اسی بارے میں