کراچی: ٹارگٹ کلنگ میں مفتی نعیم کے داماد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption واقعے کے بعد ناظم آباد، حیدری اور سائیٹ ایریا میں صورتحال کشیدہ ہوگئی بعض مقامات پر ٹائروں کو نذر آتش بھی کیا گیا ہے

صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں مسلح حملے میں مذہبی عالم مفتی محمد نعیم کے داماد اور استاد مسعود بیگ ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد کئی علاقوں میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ بدھ کی سہ پہر ڈھائی بجے کے قریب نارتھ ناظم آباد کے علاقے حیدری مارکیٹ میں پیش آیا۔ حیدری پولیس کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم افراد نے ایک کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مولانا مسعود زخمی ہوگئے۔ انھیں ہپستال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گئے۔

ایس ایس پی وسطی کے مطابق مولانا مسعود بچوں کو سکول سے لینے جارہے تھے کہ ان کا تعاقب کرکے نشانہ بنایا گیا۔ انھیں سر اور سینے پر گولیاں ماری گئی ہیں۔

مولانا مسعود جامعہ بنوریہ سائیٹ ایریا میں درس و تدریس سے منسلک تھے۔ وہ شعبہ خواتین کے نگران اور جامعہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم کے داماد تھے۔ ان کے لواحقین میں بیوہ، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔

وہ پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے علاوہ بیرون ملک بھی لیکچر دینے جاتے تھے اور ان کا موضوع اسلام میں برداشت تھا۔

اس واقعے کے بعد ناظم آباد، حیدری اور سائیٹ ایریا میں صورتحال کشیدہ ہوگئی بعض مقامات پر ٹائروں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اہلسنت و الجماعت کے ترجمان مولانا اورنگزیب فاروقی نے مولانا مسعود کے قتل کی مذمت کی ہے اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اہل سنت علما کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے شیعہ عالم علامہ عباس کمیلی کے نوجوان بیٹے علامہ اکبر کمیلی کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

کراچی میں رینجرز کی سربراہی میں گذشتہ ایک سال سے ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، جس کے باوجود فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں میں کمی واقع نہیں ہوئی۔

حالیہ واقعات کے بعد سندھ حکومت ایک بار پھر دس روز کے لیے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اسی بارے میں