بحریہ پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوج کے مطابق وزیرستان میں آپریشن بڑی کامیابی سے جاری ہے

پاکستان کے تجارتی گڑھ کراچی میں پاکستان بحریہ کا ڈاک یارڈ چھ ستمبر کو دہشت گردوں کے حملے کی زد میں آیا، لیکن حیرت انگیز طور پر یہ خبر چند دن بعد منظر عام پر آئی۔

دہشت گردوں اور بحریہ کے اہکاروں کے درمیان چھ گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اس حملے میں بحریہ کا ایک اہلکار اور دو حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ بحریہ کے ایک افسر سمیت چھ اہلکار زخمی ہو گئے۔

بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں حملے کے دوران اندرونی مدد حاصل تھی۔ اس بات کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اہم خبر 24 گھنٹے بریکنگ نیوز کے متلاشی ٹی وی چینلوں سے کیسے چھپی رہی؟

اس بات پر بھی سوالیہ نشان لگا ہے کہ حکام نے 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد اس حملے کے بارے میں خبر جاری کی۔

پاکستانی اخبارت میں اس بارے میں شائع ہونے والے اداریوں میں اس کی مختلف وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیرستان آپریشن میں سینکڑوں کی تعداد میں شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں

انگریزی زبان کے روزنامے ’دی نیشن‘ نے دس ستمبر کو شائع والے اداریے میں لکھا کہ غالباً یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ماضی میں حساس تنصیبات پر ہونے والی حملوں کی انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں کوریج کی گئی اور براہِ راست کوریج میں سکیورٹی فورسز کی نقل و حمل بھی دکھائی جاتی رہی جس سے حملہ آوروں کو مدد ملتی رہی۔

انگریزی زبان کے ایک اور قومی روزنامہ ’دا ڈیلی ٹائمز‘ نے بھی ستمبر کی دس تاریخ کو اس بارے میں اداریہ لکھا۔ اس میں خیال ظاہر کیا گیا کہ اس خبر کو عام کرنے میں تاخیر سے شاید اس لیے کام لیا گیا کہ حکام اس واقعے کی تحقیقات کی تفصیلات بتانا نہیں چاہتے ہوں گے۔

اندرونی ہاتھ

پاکستانی اخبارات اس حملے میں اندرونی معاونت پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان میں حساس نوعیت کی تنصیبات پر یہ دہشت گردوں کا یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔ اس سے قبل پاکستانی فوج کے راولپنڈی میں واقع ہیڈ کوارٹر، کامرہ میں پاکستان فضائیہ کے اڈے، کراچی ہی میں واقع بحریہ کے مہران بیس اور کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر بھی حملہ ہو چکا ہے۔

دا نیشن اخبار کا کہنا ہے کہ یہ بڑی تشویش کی بات ہے کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ اندرونی امداد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

پاکستان بحریہ کے لیے مزید مشکل تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کے اس بیان نے پیدا کر دی جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں انھیں اندرونی امداد بھی حاصل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں اس سے قبل مہران بیس پر بھی حملہ ہو چکا ہے

روزنامہ ڈان نے شاہد اللہ شاہد کا بیان شائع کیا تھا جس میں انھوں نے اندرونی امداد حاصل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

ڈان نے اس بارے میں اپنے رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر اندرونی امداد کی بات درست ہے تو اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے کہ مسلح افواج کے اندر دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والے عناصر کو صاف کرنا اسی طرح بہت مشکل کام ہے جس طرح دہشت گردوں کو ختم کرنا ہے۔

ضرب عضب کا شاخسانہ؟

پاکستان کے تقریباً تمام اخبارات کا خیال ہے کہ کراچی کے ڈاک یارڈ پر حملہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کا رد عمل ہے۔ اخبارات کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس دلیل کو تقویت دیتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کو صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

’دا نیشن‘ نے اپنے اداریے میں مزید لکھا کہ یہ حملہ دراصل وہ ردعمل ہے جس کا خدشہ بہت سے ماہرین اسی دن سے ظاہر کر رہے تھے جس دن ضرب عضب کے نام سے فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی۔

اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہماری فوج نے ممکنہ رد عمل کے بارے سوچا تھا؟ مزید یہ کہ صرف شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے خالی کرانے سے آپریشن ختم نہیں ہوگا۔

اخبار مزید لکھتا ہے اس طرح کے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے باوجود دہشت گردوں کا ملک میں جال ابھی اپنی جگہ موجود ہے اور دہشت گردی کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑائی صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔

فوج کی صفوں میں انتہا پسندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک طویل عرصے سے یہ خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں کہ پاکستان فوج کی صفوں میں بھی انتہا پسندی موجود ہے۔ حالیہ حملے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

روزنامہ ڈان نے لکھا ہے اولین چیلنج یہ ہے کہ فوج کی صفوں میں شدت پسندوں سے رابطے رکھنے والے عناصر کی نشاندہی کی جائے، اور اگر کسی کے رابطوں کے بارے میں تصدیق ہو جائے تو ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اس کے بعد مسلح افواج کی صفوں سے انتہا پسندی دور کرنے کا طویل اور دشوار عمل کام شروع کیا جائے۔

اسی بارے میں