’آبی جارحیت‘ یا کہ ناقص حکمت عملی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سارا سال کم بارشوں بھی کے باوجود مون سون کی بارشیں تباہی پھیلا دیتی ہیں

ایک اور تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنے کے بعد، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو مذید ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔رواں سال دونوں ممالک میں انتہائی کم بارشوں کے باوجود سیلاب آنا ایک المیہ ہے۔

سیلاب نے سرحد کی دونوں جانب تباہی پھیلائی اور ساڑھے چار سو سے زائد لوگ ہلاک ہوئے، لیکن اگر غور کیا جائے تو گزشتہ دس روز میں کشمیر اور پنجاب میں آنے والے سیلاب کی صورت میں کتنا پانی ضائع ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگ اب بھی سیلاب میں پھنسے ہوۓ ہیں۔

ناقدین کا خیال ہے کہ یہ سیلاب چاہے کتنی تیزی سے اور بار بار آئیں، پاکستان اور بھارت ہر سال مون سون کی بارشوں سے ہونے والی تباہی سے سبق حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دونوں حکومتوں کو سیلاب متاثرین کی جانب سے ناقص امدادی سرگرمیوں جیسی شکایات کا سامنا ہے ۔آبی ماہرین کے بقول ان ممالک کو سیلاب کی پیشن گوئی کے لیے فوری طور پر ایک وسیع المدتی اور جامع نظام بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی پنجاب میں حالیہ سیلاب سے تباہی ان دریاؤں کی وجہ سے آئی جو بھارت کے ہمالیہ پہاڑوں سے نکلتے ہیں۔

آبی جارحیت کے الزامات:

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں شہری علاقوں کو بچانے کے لیے دریاؤں کے پشتے توڑ کر پانی کا رخ زرعی علاقوں کی طرف موڑ دیا گیا۔

سیلاب کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پاکستانی حکام کو شہری علاقوں کو بچانے کے لیے دریاؤں کے پشتے توڑ کر پانی کا رخ زرعی علاقوں کی طرف موڑا جس سے وہاں ہزاروں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ پاکستان میں تو کچھ لوگوں نے بھارت پر جان بوجھ کر پانی کو کنٹرول نہ کرنے اور اپنے روایتی حریف پاکستان کے خلاف ’آبی جارحیت‘ کرنے کے الزامات تک لگا دیے۔

لیکن آبی قوانین کے ماہر پاکستانی قانون دان احمر بلال صوفی کا کہنا ہے کہ ڈیمز نہ بنانے کی وجہ سے،حالیہ سیلاب میں پانی کےکنٹرول میں ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ احمر بلال کی بات میں کافی وزن ہے کیونکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت بننے والی کمیشن میں پاکستانی حکام کے مشیر ہیں۔

دونوں ممالک کے حکام بھارت کی جانب سے ایک نیا ڈیم بنانے پر پاکستانی اعتراضات پر بات چیت کے لیے، حالیہ سیلاب سے صرف چند دن پہلے ملے۔ پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات میں شاید سندھ طاس معاہدے پر ابھی تک عمل درآمد امید کی واحد کرن ہے۔

نکاسی کے لیے بہتر نظام کی ضرورت:

لیکن ماہرین کا یہ کہنا ہےکہ بھارت صرف اپنے علاقے کے بارے میں فکر مند ہے۔

وہاں بھی حکام پر مون سون کی بارشوں کے پانی کو ضائع کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ بھارت کے لوگوں کو معلوم ہے کہ ان کے ملک میں بجلی کی کتنی قلت ہے جو کہ ہائیڈرو پاور کے منصوبوں سے ختم کی جا سکتی ہے۔

نکاسی آب کے بہتر نظام کی ضرورت ہے، خصوصاً شہروں میں بننے والی عمارات پر کنٹرول۔ لیکن دہلی سے تعلق رکھنے والی ماہر ماحولیات سونیتا نارائن کے بقول، ’شہروں میں بسنے والے بھارتی، نکاسی آب کے مسئلے کو تو یکسر بھول چکے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بارشوں کے پانی کے لیے بننے والے نالے یا تو گند سے بھرے پڑے ہیں اور یا تو وجود ہی نہیں رکھتے۔‘

بارشوں اور سیلابوں کی شکل میں آنے والے قدرتی آفات زیادہ اور ان سے آنے والی تباہی بھی غیر متوقع ہوتی جا رہی ہے اور ماہرین کے مطابق یہ سب کچھ ماحولیاتی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ پاکستان اور بھارت میں تباہی پھیلانے والی مون سون کی بارشیں اس دفعہ تاخیر سے ہوئیں، کچھ کا تو خیال تھا کہ مون سون ختم ہو گیا ہے۔

Image caption سیلاب اور بارشوں میں میں اضافے کے باعث اس طرح کے امدادی کیمپ بھی شاید اب زیادہ دیکھنے کو ملیں

. بھارت میں تو رواں سال جون میں تقریباً پانچ ہزار افراد ایسے وقت میں بارشوں سے ہلاک ہوئے جب مون سون شروع ہونے میں کافی وقت تھا۔

اسی طرح پاکستان میں دو ہزار دس میں دریائے سندھ میں آنے والے سیلاب سے وسطی پاکستان میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ تب سے اب تک آنے والے سیلابوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دو ہزار دس میں سیلاب سے آنے والی تباہی کے بعد ہونے والی جوڈیشل انکوائری نے سیلاب کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی پیش کی تھیں۔آبی امور کے ایک ماہر نے جو کہ اس جوڈیشل انکوائری کے رکن تھے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا‘

ان کے بقول، ’ہر آفت کے بعد ہم دوبارہ سو جاتے ہیں۔‘

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں