سو کارکنوں کو جیل، حکومت سے مذاکرات معطل

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان تحریکِ انصاف کے صوبہ خیبر پختون خوا کے صدر اعظم سواتی اور نائب صدر شبلی فراز کو حراست میں لے کر مارگلہ تھانے منتقل کیا گیا ہے: پولیس

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے تقربیاً 100 کارکنوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق عدالت نے پی ٹی آئی اور عوامتی تحریک کے کارکنوں کو ریاستی اداروں پر حملہ کرنے اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر 14 روز کے عدالتی ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

علاوہ ازیں مارگلہ تھانے کے ایک پولیس اہلکار نے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کو بتایا کہ سنیچر کو اسلام آباد سے پاکستان تحریکِ انصاف کے صوبہ خیبر پختون خوا کے صدر اعظم سواتی اور نائب صدر شبلی فراز کو حراست میں لے کر مارگلہ تھانے منتقل کیا گیا ہے لیکن تاحال ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے گرفتار کارکنان کی رہائی تک حکومت سے مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہمارے تمام کارکنان کو رہا کرے اور راستہ کھولے تب جا کے ہم مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا جائزہ لیں گے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ لوگوں کو گیسٹ ہاؤسز سے گرفتار کیا گیا۔انھوں نے اپنے سینکڑوں کارکنان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔

اس سے پہلے تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے اسلام آباد کی ضلع کچہری میں قیدیوں کو لے جانے والی ان دو گاڑیوں کو زبردستی روکا جن میں گرفتار کیے گئے ان کے ساتھی کارکنوں کو عدالت لایا گیا تھا۔

یہ کارکن نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے رہے اور انھوں نے دونوں گاڑیوں کی ٹائروں کی ہوا بھی نکال دی۔

قیدی ویگنوں میں موجود کارکنوں نے بھی گاڑیوں کے اندر شور شرابہ کیا جس کے بعد حالات کشیدہ ہونے پر پولیس کی مزید نفری بھی طلب کی گئی۔

اس موقع پر اسلام آباد کے آئی جی نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو فوری طور پر منتشر ہونے کا حکم دیا اور کہا کہ ایسا نہ ہوا تو انھیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت عوامی مقامات پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد ہے۔

آئی جی کے خطاب کے فوری بعد قیدیوں کی ایک گاڑی کو تیزی سے کچہری کے احاطے سے نکال کر لیے جایا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان سنیچر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ پاکستانی ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملہ کرنے والوں کی شناخت ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شناخت ہونے والے افراد کے خلاف کارروائی کل سے شروع کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل گرفتار ہونے والے ایک شخص سے وائرلس سیٹ بھی برآمد ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے کے حوالے سے چھ افراد کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین میں بعض کے پاس اسلحہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

چوہدری نثار نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکل سوار ’دہشت گرد‘ مظاہرین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں