’افغان علاقے سے حملے کے بعد جھڑپ میں 14 ہلاک‘

Image caption شمالی وزیرستان میں تین ماہ سے فوجی آپریشن ضرب عضب جاری ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے مطابق اب تک شدت پسندوں کا بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے

پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں افغانستان کے سرحدی علاقے سے ہونے والے حملے کے بعد شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں تین سکیورٹی اہلکار اور 11 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق ایک شدت پسند کو فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق منگل کو صبح سویرے شدت پسندوں نے سپین وام کے علاقے میں ڈنڈی کچھ کے مقام پر فرنٹیئر کور کی چوکی پر حملہ کیا۔

حکام کے مطابق یہ حملہ افغانستان کے سرحدی علاقے سے کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے اس حملے پر بھرپور جوابی کارروائی کی جس میں 11 شدت پسندوں کو ہلاک اور ایک کوگرفتار کر لیا۔

حملہ آور اپنے تین ساتھیوں کی لاشیں موقعے پر چھوڑ کر فرار ہو گئے جنھیں فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس جھڑپ میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے چوکی پر راکٹوں اور دیگر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا

شمالی وزیرستان سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے چوکی پر راکٹوں اور دیگر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے چوکی کو بھی نقصان پہنچا۔ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ دیر تک جاری رہا۔

بعض اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز افغانستان کی سرحد کے اندر سے خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں بھی گولے گرے تھے، تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دو روز پہلے شمالی وزیرستان میں میر علی کے قریب سپین وام کے ہی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قلعے پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں جوابی کارروائی شروع کر دی تھی لیکن دوسری جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

شمالی وزیرستان میں تین ماہ سے فوجی آپریشن ضرب عضب جاری ہے جس میں سکورٹی فورسز کے مطابق اب تک شدت پسندوں کا بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے اور اس آپریشن سے ان کے حملوں کی قوت ختم کر دی گئی ہے۔

اس آپریشن کے نتیجے میں اب تک 56 ہزار سے زیادہ خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جو ان دنوں خیبر پختونخوا کے بنوں، کرک، لکی مروت اور پشاور سمیت مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں