’شکر ہے آپ آخری مسافر نہیں ہیں‘

Image caption اس سے قبل کئی بار ایسی صورت حال پیدا ہو چکی ہے جس میں پی آئی اے کے طیارے کو کئی گھنٹوں وی آئی پی مسافروں کا انتظار کرنا پڑا

پاکستان میں سوشل میڈیا پر گذشتہ رات سے ویڈیوز موضوعِ بحث ہیں جن میں سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک اور حکمران جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کو دیر سے طیارے میں آنے پر مسافروں کی جانب سے شدید غصے کا سامنا کرنا پڑا۔

رحمان ملک کو تو طیارے میں سوار ہی نہیں ہونے دیا گیا جبکہ رکن قومی اسمبلی رمیش کمار جو طیارے میں سوار ہو چکے تھے، انھیں مسافروں نے نشست سے اٹھا کر طیارے سے باہر جانے پر مجبور کر دیا۔

یہ ویڈیو ایک صارف نے پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے طیارے پر اپنے موبائل پر بنائی ہے اور اس میں رحمان ملک کی آواز واضح طور پر سنی جا سکتی ہے۔

جب اس خبر کی تصدیق کے لیے پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ ’کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز پی کے 370 کی تاخیر کی وجہ فنی خرابی تھی نہ کہ ان افراد کا دیر سے آنا۔‘

انھوں نے بتایا کہ رحمان ملک صاحب کا تاخیر سے آنا ایک ’اتفاق ہے کیونکہ طیارہ فنی خرابی کے باعث رکا ہوا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ flightradar24
Image caption پی آئی اے کی پرواز پی کے 369 کی اسلام آباد سے کراچی روانگی اور آمد کا ڈیٹا ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کی ویب سائٹ کے مطابق۔ نوٹ یہ اوقات یو ٹی سے کے مطابق ہیں

اگر ہم اس پرواز کا ڈیٹا دیکھیں تو اس پرواز کے لیے پی آئی اے کا طیارہ ایئر بس A310 استعمال ہوا، جس کا رجسٹریشن نمبر AP-BGR ہے۔ یہ پرواز نمبر پی کے 369 کے طور پر اسلام آباد سے تین بجے کی بجائے تین بج کر 25 منٹ پر روانہ ہوئی جبکہ کراچی پانچ بج کر دو منٹ پر پہنچی۔

کراچی پہنچنے کے بعد اسے پی آئی کے مطابق مبینہ ’فنی خرابی دور کرنے کے لیے روکا گیا‘ جس کی وجہ سے یہ تاخیر کا شکار ہوئی۔

پی آئی کے ترجمان کے مطابق تاخیر کی اطلاع مسافروں کو دی گئی مگر آخری وقت پر مزید تاخیر کی وجہ سے طیارہ رن وے پر کچھ دیر رکا رہا۔ مگر طیارے میں کیا خرابی تھی، اس کے جواب میں پی آئی اے کے ترجمان کا جواب تھا کہ ’یہ consequential تاخیر تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ flightradar24
Image caption کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز کے اصل اوقات اور تبدیل شدہ اوقات فلائٹ راڈار ویب سائٹ کے مطابق۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ رحمان ملک اور رکنِ قومی اسمبلی طیارے سے باہر کیوں تھے، تو پی آئی اے کے ترجمان نے جواب دیا کہ ’آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے اراکینِ پارلیمان اور وی آئی پی شخصیات کو سب سے آخر میں طیارے پر سوار کرایا جاتا ہے۔‘

پی آئی اے کی اس پرواز کو شام سات بجے روانہ ہونا تھا اور اس کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ پانچ بجے کراچی پہنچنے کے بعد سے کراچی ائیر پورٹ پر ہی رہا اور رات نو بج کر 30 منٹ پر کراچی سے پی کے 370 بن کے روانہ ہوا۔

دوسری جانب اس ویڈیو میں غصے سے بھرے مسافروں کو سنا جا سکتا ہے جو ان دونوں سیاست دانوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں بلکہ بعض تو ان کے لیے نازیبا الفاظ بھی استعمال کر رہے ہیں اور ڈاکٹر رمیش کمار کی ویڈیو میں تو طیارے میں سے شیم شیم کی آوازیں بھی واضح سنی جا سکتی ہیں۔

ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ڈیلی موشن پر شائع ہونے والی اس ویڈیو کو minator90210 نامی صارف نے اپ لوڈ کیا جس میں اس ایک ہی طیارے کی تین ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی ہیں جن سب کو اب تک تین لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

جب رحمان ملک تاخیر سے پرواز کی جانب آ رہے تھے تو ایئر برج پر ہی غصے سے بھرے مسافروں کا سامنا کرنا پڑا تاہم جیسے ہی رحمان ملک کو خطرے کے آثار نظر آئے انھوں نے راستے سے ہی یو ٹرن لیا اور واپس چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سینیٹر رحمان ملک نے ٹویٹ میں لکھا کہ پرواز ان کی وجہ سے تاخیر کا شکار نہیں ہوئی بلکہ اس کی وجہ تکنیکی خرابی تھی

رحمان ملک کو طیارے میں سوار نہ ہونے دینے والے افراد میں سے ایک جن کے پاس ویڈیو کیمرا ہے، انھیں واضح طور پر کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’وی آئی پی، مائی فٹ، ابھی آتے ہیں تو میں انھیں گرِل کرتا ہوں۔‘

رحمان ملک نے ٹوئٹر پر اس واقعے کے حوالے سے لکھا کہ ’مجھے الزامات کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا حق ہے اور پی کے 370 جسے سات بجے جانا تھا تکنیکی وجوہات سے تاخیر کا شکار تھی اور اسے آٹھ بج کر 30 منٹ پر روانہ ہونا تھا۔ تو میرے لیے کوئی تاخیر نہیں تھی۔‘

رحمان ملک نے مزید لکھا کہ ’میں نے وزیر کے ساتھ تلخ کلامی سنی اور پی ٹی آئی کے ایک کارکن کو چیختے ہوئے سنا جس پر فیصلہ کیا کہ میں اس پرواز پر نہیں جاؤں گا۔‘

ڈاکٹر رمیش کمار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب میں ایئر پورٹ پہنچا تو بورڈنگ پاس لینے کے بعد اعلانات کیے گئے کہ فنی خرابی کی وجہ سے پرواز میں تاخیر ہے اور میرے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ اسے کچھ گھنٹے لگیں گے اور آٹھ بجے کے بعد بتایا گیا۔ اس کے بعد میں چلا گیا اور پھر واپس آیا۔‘

ڈاکٹر رمیش نے بتایا کہ ’میں طیارے میں آ کر بیٹھ گیا جس کے بعد رحمان ملک کو طیارے میں سوار نہیں ہونے دیا گیا اور طیارے کا گیٹ بند کر دیا گیا، ایئر برج ہٹا لیا گیا اور اس کے بعد ایک صاحب نے مجھے پہچان کر شور مچانا شروع کیا جس پر میں نے خود ہی اترنے کا فیصلہ کیا کیونکہ میں اگلے ڈیڑھ گھنٹے تک یہ سب برداشت نہیں کر سکتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پرواز پر موجود ایک مسافر حسن عسکری نے ٹوئٹر پر اور بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ پرواز کی تاخیر کی وہ وی آئی پی مسافر تھی

انھوں نے بتایا کہ سوار ہونے سے قبل ’مجھے عملے نے بتایا کہ شکر ہے آپ آخری مسافر نہیں ہیں کیونکہ آخری مسافر رحمان ملک ہیں اور ان کے بارے میں مسافر شدید غصے میں ہیں۔‘

اسی پرواز پر سوار ایک مسافر حسن عسکری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں طیارے میں تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ بیٹھا رہا جس دوران ایک مسافر نے انکشاف کیا کہ یہ پرواز رحمان ملک کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے جس کے بعد سارا شور شروع ہوا۔‘

اب سے کچھ دیر قبل پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے تصدیق کی کہ پی آئی اے نے دو اہلکاروں کو غفلت برتنے پر معطل کر دیا ہے۔

پاکستان میں پی آئی اے سمیت مقامی فضائی کمپنیوں کی پروازوں میں تاخیر ماضی میں بھی وی آئی پی مسافروں اور فنی خرابی کے باعث پیش آتی رہی ہے مگر ایسا ردِ عمل اس سے پہلے بہت کم دیکھا گیا ہے۔

تاہم اگر اس معاملے میں دیکھا جائے تو شنید ہے کہ یہ معاملہ ’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کا ہے‘ جنھوں نے طیارے کو روکے رکھا۔ اس وقت پاکستان میں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ رحمان ملک اور وی آئی پی گذشتہ کئی گھنٹوں سے ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں