وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شریف برادران کے خلاف اب ایک ریفرنس کا فیصلہ ہونا باقی ہے

راولپنڈی کی احتساب عدالت نے وزیر اعظم میاں نواز شریف، وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور اُن کے اہل خانہ کے خلاف نامعلوم ذرائع سے بنائےگئےاثاثہ جات اور حدیبیہ پیپر ملز کے ریفرنس دوبارہ کھولنے سے متعلق قومی احستاب بیورو کے چیئرمین کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان افراد کو ان ریفرنس سے بری کردیا ہے

درخواست کی سماعت کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج انور خان کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف دو ریفرنس کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو ان ریفرنس پر دوبارہ تحقیقات کرنا چاہتا ہے تاکہ ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ریفرنس تو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے پہلے دائر ہوئے تھے تو پھر اس کی تحقیقات مکمل کیوں نہیں کی جاسکیں۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں ان ریفرنسوں کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اس پر جج کا کہنا تھا کہ سنہ 2008 کے بعد تو پرویز مشرف اقتدار میں نہیں تھے تو پھر ان ریفرنس کی تحقیقات مکمل کیوں نہیں ہوئیں تاہم نیب کےڈپٹی پراسیکیوٹر عدالت کی اس آبزرویشن کا جواب نہ دے سکے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان ریفرنسوں میں ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ریفرنس سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے تھے۔

یاد رہے کہ حدیبیہ پیپرز مل اور رائے ونڈ میں اثاثہ جات اور نامعلوم ذرائع سے حاصل کی گئی آمدن کے ریفرنسوں میں شریف برادران پر تقریباً ایک ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

شریف برادران کے خلاف یہ ریفرنس سنہ 2001 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں دائر کیے گئے تھے تاہم شریف برادران کے بیرون ملک چلے جانے کے کچھ عرصہ بعد ان ریفرنسز پر عدالتی کارروائی روک دی گئی تھی۔

شریف برادران کے خلاف اب ایک ریفرنس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔یہ ریفرنس اتفاق فونڈریز سے متعلق ہے اور اس بارے میں لاہور ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں