جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما شیر عالم قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption سرکاری ذرائع کے مطابق مئی سن 2013 سے اگست 2014 تک اس طرح کے دہشت گردی کے واقعات میں 160 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے جمعیت علماء اسلام (ف) کے مقامی رہنما مولانا شیر عالم فاروقی کو ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعہ ہنگو کے دور افتادہ علاقے دوآبہ میں تورہ غنڈی کے مقام پر پیش آیا ہے۔ پولیس اہلکار کے مطابق مولانا شیر عالم فاروقی اپنی گاڑی میں گھر سے مدرسے کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ مولانا شیر عالم کے گھر سے مدرسہ کوئی دس سے بارہ کلومیٹر دور واقع ہے اور وہ معمول سے اس وقت مدرسے جایا کرتے تھے۔ مولاناشیر عالم کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ جمعیت کے اہم رہنما مفتی جانان کے قریبی ساتھی تھے۔

جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات عبدالجلیل جان نے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا شیر عالم تحصیل ہنگو میں ان کی جماعت کے نائب امیر تھے اور وہ جامعہ حقانیہ سے فارغ التحصیل تھے۔

تورہ غنڈی کا علاقہ کرم ایجنسی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ہنگو شہر سے اتنا دور ہے کہ پولیس کو موقع پر پہنچنے میں بھی کافی وقت لگا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ سال انتخابات کے بعد علاقے سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی فرید خان کو بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں ہلاک کر دیا گیا تھا

خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ان دنوں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مئی سن 2013 سے اگست 2014 تک اس طرح کے دہشت گردی کے واقعات میں 160 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غیر سرکاری اداروں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔

صوبے کے اہم اضلاع جیسے پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کرک کوہاٹ سوات میں چند ہفتوں سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات معمول سے پیش آ رہے ہیں۔ ان میں واقعات میں اہم سرکاری اہلکاروں کے علاوہ امن لشکر کے رضا کار اورفرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ہنگو میں ہی گزشتہ سال انتخابات کے بعد علاقے سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی فرید خان کو بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد ہنگو اور اس کے مضافات میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔

پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ایک اہم ملزم کو انھوں نے گرفتار کیا ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ ماہ سے ایسے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو پولیس کے مطابق تشدد کے واقعات میں ملوث رہے ہیں ۔

اسی بارے میں