’رضوان اختر سیاسی دباؤ میں نہیں آتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رینجرز کی سربراہی سے قبل میجر جنرل رضوان اختر وزیرستان میں تعینات تھے جہاں وہ آپریشن میں بھی شریک رہے

پاکستان کے طاقتور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے نامزدگی سے قبل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کراچی میں بطور ڈائریکٹر جنرل رینجرز خدمات انجام دے رہے تھے اور اس دوران انھوں نے ایک ایسے آفیسر کے طور اپنی ساکھ بنائی ہے جو سیاسی دباؤ کا شکار نہیں ہوتا۔

کراچی میں میجر جنرل رضوان اختر کی تعیناتی ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے طور پر ان دنوں ہوئی تھی جب ایک نوجوان سرفراز شاہ کی رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ میں ہلاکت کے بعد اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل اعجاز چوہدری کو سپریم کورٹ کے احکامات پر ہٹایا گیا تھا۔ وہ بعد میں بحال ہوئے لیکن فوری ان کا تبادلہ کردیا گیا۔

بطور ڈائریکٹر جنرل رینجرز تعیناتی رضوان اختر کی ذمہ داری امن و امان کے ساتھ ساتھ اپنے ادارے کی ساکھ بحال کرنا بھی تھی، جس کا اعتراف انھوں نے خود ایک ملاقات میں کیا تھا کہ سرحدی فورس کی وجہ سے رینجرز کی سویلین آبادی میں کام کرنے کی تربیت نہیں لیکن وہ انہیں یہ باور کرا رہے ہیں کہ اپنے ملک کے ہی شہریوں کے درمیان کام کیسے کیا جائے۔

لیکن اس کے باوجود دو بار ایسے واقعات پیش آئے جس میں رینجرز اہلکار دو شہریوں کی ہلاکت میں ملوث پائے گئے۔

رینجرز کی سربراہی سے قبل میجر جنرل رضوان اختر وزیرستان میں تعینات تھے جہاں وہ آپریشن میں بھی شریک رہے۔

کراچی میں ان کی تعیناتی سے قبل سیاسی، لسانی اور فرقے کی بنیاد پر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری تھا۔

ایک ملاقات میں انھوں نے وزیرستان میں اپنی تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے کراچی میں طالبان کی موجودگی کو مسترد کیا تھا اور شہر میں ایک ’سخت ایکشن‘ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

کراچی میں بھتہ خوری اور اغوا کی وارداتوں سے تاجر برداری سب سے زیادہ پریشان رہی۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ہارون کہتے ہیں ’ٹارگٹڈ آپریشن سے پہلے ڈی جی رینجرز جنرل رضوان اختر کہتے تھے کہ وہ ملزمان کو پکڑتے ہیں لیکن پولیس والے چھوڑ دیتے ہیں بعد میں جب میاں نواز شریف وزیرِاعظم بنے تو جنرل رضوان نے ایک واضح پیغام دیا کہ انھیں فری ہینڈ چاہیے۔‘

کراچی میں رینجرز کی کارروائیوں پر متحدہ قومی موومنٹ تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے اور اسے یہ بھی شکایت تھی کہ اس کے کارکنوں کو لاپتہ کردیا گیا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت لیاری میں رینجرز کی کارروائیوں کے خلاف کئی بار احتجاج کرچکی ہے۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بھی ایک بار یہ شکوہ کیا تھا کہ ڈی جی رینجرز ان سے ملاقات کرنے تک نہیں آتے لیکن ان سارے معاملات کے باوجود کبھی سست تو کبھی تیز رفتاری سے کراچی آپریشن جاری رہا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید کہتے ہیں ’لسانی اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر پورے کراچی میں آپریشن کی ضرورت ہے جنرل رضوان اختر ایک قابل افسر تھا اگر سیاسی مصلحت نہ ہوتی تو وہ یہ کرسکتا تھا۔ اس آپریشن میں اگر کوئی کمی رہی تو وہ سیاسی مصلحت رہی ہے۔‘

لیکن سینئیر صحافی ایم ضیا الدین اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ جنرل رضوان اختر کے دور میں رینجرز کافی سیاسی ہوگئی تھی اس میں وفاق اور صوبائی حکومت دونوں کا عمل دخل تھا۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ رینجرز پولیس سے زیادہ غیر سیاسی ہے، پولیس سے زیادہ قابل ہے اور جرائم پر قابو پانے میں زیادہ قابلیت سے کام کرے گی لیکن جب ایکشن شروع ہوا تو کوئی زیادہ بہتری نظر نہیں آئی۔

’کراچی میں تعیناتی کے دوران جنرل رضوان اختر کی کوئی خاص کارکردگی نہیں رہی اور کافی شک و شبہات نے جنم لیا اور یہ شدت سے محسوس کیا گیا کہ رینجرز ایک ایسے چشم دید گواہ کے طور پر موجود ہے جس کی امن کی بحالی میں کوئی دلچسپی نہیں۔‘

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب کے بعد کراچی میں بھی کسی ردِ عمل کا امکان تھا لیکن اسی عرصے میں شہر میں طالبان کی گرفتاریاں اور ہلاکتیں سامنے آئیں۔

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے کراچی میں نمائندے شعیب حسن کہتے ہیں کہ جنرل رضوان اختر نے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی۔

شعیب حسن کے مطابق سبکدوش ہونے والے جنرل طارق خان جو فرنٹیئر کور کے کمانڈر رہے ہیں ان کے بعد اگر پاکستان فوج میں کوئی افسر ہے جو کاونٹر ٹیرر ازم اور عسکریت پسندی کو سمجھتا ہے تو وہ رضوان اختر ہے۔ جو دیہی اور شہری ٹیرر ازم دونوں سے بخوبی آگاہ ہیں، اس کے علاوہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ انٹلی جنس ایجنسیوں کا کیا کام ہے اور انھیں کس حد تک چھوٹ دینی چاہیے۔

شعیب حسن کا کہنا ہے کہ جنرل رضوان اختر نے کراچی میں کئی بار ایسے اقدامات اٹھائے جن میں انٹلیجنس اداروں کی مرضی شامل نہ تھی لیکن اس کے باوجود انھوں نے وہ اقدامات اٹھائے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سے قانون کی حکمرانی میں بہتری آ سکتی تھی۔

اسی بارے میں