میر پور خاص میں فائرنگ سے احمدی ڈاکٹر ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں 2013 کے دوران سات احمدیوں کو عقیدے کی بنیاد پر قتل کیا گیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر میر پور خاص میں حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے احمدی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔

جماعت احمدیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق مبشر احمد کھوسہ جو کہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اور اپنے کلینک میں حسبِ معمول موجود تھے جب انھیں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

’احمدیوں کے خلاف نفرت و تشدد میں اضافہ‘

فائرنگ کے نتیجے میں مبشر احمد کھوسہ شدید زخمی ہو گئے اور جب انھیں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ہی وہ دم توڑ گئے۔

مقامی ایس پی ظفر اللہ دھاریجو نے بی بی سی کی نامہ نگار صبا اعتراز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’مبشر کھوسو کو 5 گولیاں لگی ہیں جن میں سے ایک سر میں لگی اور دو سینے میں لگیں۔‘

ظفر اللہ دھاریجو نے بتایا کہ’اس سے قبل 2008 میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوا تھا اور فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ڈاکٹر عبدالمنان کا تعلق بھی احمدی برادری سے تھا اور اس واقعے کو بھی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔‘

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’احمدیوں کے حوالے سے حکومتی اداروں کی جانب سے مسلسل خاموشی معنی خیز ہے جہاں احمدیوں کو قتل کیا جاتا ہے مگر ان کے قاتلوں کو سزا تو درکنار گرفتار تک نہیں کیا جاتا۔‘

پاکستان میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور اسی تناظر میں گذشتہ ماہ قومی اسمبلی نےملک میں اقلیتوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے حقائق جاننے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی تھی۔

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے رواں سال اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رکھا ہے جہاں اقلیتوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں