پاکستان میں نوعمری کی شادی کا رواج برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 24 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہو جاتی ہے

ریشماں پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع دادو کے قصبے جوہی کی رہنے والی ہیں۔ یہ علاقہ سندھ کے دیگر بہت سے دیہات کی طرح بہت پسماندہ ہے۔

ریشماں کا مکان جس محلے میں ہے وہاں زیادہ آبادی اہلِ تشیع کی ہے، جبکہ پاس ہی ہندوؤں کی بستی ہے۔

عاشورۂ محرم کو یہاں سے ذوالجناح کی زیارت نکلتی ہے تو سالہا سال کی روایت کے مطابق اس میں ہندو بھی شریک ہوتے ہیں۔

ضلح دادو کے قصبے جوہی میں ایک روایت نوعمری کی شادی کی بھی ہے اور ریشماں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔

ان کی شادی 13 برس کی عمر میں 35 برس کے شخص سے کر دی گئی، جو اب خود تو بیماری کے باعث کمانے کے قابل نہیں اور زندگی کی چکی ہے کہ ریشماں کو پِسے چلی جا رہی ہے۔

ریشماں نے بتایا: ’جب میں پانچویں میں پڑھتی تھی تو مجھے سکول سے اٹھا لیا گیا۔ مجھے کہا گیا کہ اب تمھاری شادی ہو رہی ہے۔ میں بہت روئی اور کہا کہ میں نے ابھی پڑھنا ہے لیکن کسی نے میری نہیں سنی۔ میری ماں نے کہا کہ میرا تو کوئی سہارا نہیں، اب تم شادی نہیں کرو گی تو میری زندگی اور مشکل ہوجائے گی۔ بس پھر شادی ہوگئی۔‘

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 24 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم عمر میں ہو جاتی ہے۔

ویسے تو ملک کے مختلف علاقوں میں کہیں ونی، سوارہ اور کہیں کسی اور روایت کے تحت بچوں کو نو عمری میں بیاہنے کا رواج ہے، تاہم سندھ میں یہ رجحان نسبتا زیادہ ہے۔ ہندو ہوں یا مسلمان، سبھی اس روایت پر کاربند ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت نے کم عمری کی شادی کے لیے ایک نیا سخت قانون متعارف کروایا ہے۔ اس قانون کے تحت اب یہ ایک ناقابلِ ضمانت جرم ہے۔ کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کرنے والے والدین اور نکاح خواں کو تین برس تک قید ہو سکتی ہے لیکن اس قانون کو موثر ہوئے چار ماہ ہونے کو ہیں اور ابھی تک اس کے تحت کسی کو سزا نہیں ہو سکی۔

Image caption چند ماہ پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے ملک میں کم عمری کی شادی کے خلاف قوانین کو غیراسلامی قرار دیا تھا

چند ماہ پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے ملک میں کم عمری کی شادی کےخلاف قوانین کو غیراسلامی قرار دیا تو ایک تاثر ابھرا کہ شاید مذہبی حلقے ان قوانین کے خلاف ہیں۔ تاہم دادو میں کم ازکم یہ تاثر تو ضرور دور ہو جاتا ہے۔

ضلع دادو کے گاوں کاچھا میں مولوی محمد امین کا خاندان تین پشتوں سے لوگوں کے نکاح اور جنازے پڑھا رہا ہے۔

محمد امین کہتے ہیں کہ پہلے تو انھیں نکاح کی لکھت پڑھت کی سمجھ بوجھ نہیں تھی لیکن اب وقت اور حالات نے انھیں کافی کچھ سکھایا ہے۔ وہ قانون کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب سے نیا قانون بنا ہے وہ دولھے اور دلھن کا شناختی کارڈ دیکھے بنا نکاح پڑھوانے سے نہ صرف انکار کر دیتے ہیں بلکہ اس حوالے سے لوگوں کو شعور دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ کچھ لوگ تو اسے مذہبی طور پر مناسب سمجھتے ہیں تو محمد امین کا کہنا تھا: ’پاکستان نے یہ قانون بنایا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی شادی اس وقت ہو جب وہ 18 سال کے ہو جائیں۔ جب ہم اس ملک میں رہتے ہیں تو ہمیں اس کا قانون تو ماننا ہے نا۔‘

ضلع دادو کے کئی دیہات میں سجاگ سنسار نامی تنظیم اپنے سٹریٹ تھیئٹر کے ذریعےگاؤں گاؤں نئے قانون کی آگہی دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

نوجوان بچے بچیوں کی ٹیم نظموں، لوک نغموں اور کہانیوں کی مدد سے کم عمری کی شادی کے نقصانات کو اجاگر کرتی ہے۔ سجاگ سنسار کے چیف ایگزیکٹیو معشوق براہمانی اب لوگوں کے رویوں میں تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔

’یہ کام ایسا ہے کہ اس میں کامیابی یا ناکامی کا اندازہ لگانا تو مشکل ہوتا ہے، لیکن پہلے جب ہم کسی گاؤں میں تھیئٹر کرنے جاتے تھے تو لوگ کہتے تھے کہ بچپن کی شادی تو ہمارا رواج ہے آپ یہ بے غیرتی کی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ لیکن اب جب ہم جاتے ہیں تو سینکڑوں لوگ ہمارا تھیئٹر دیکھنے آتے ہیں اور جب ہم کم عمری کی شادی کے خلاف پیغام دیتے ہیں تو بہت کم لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔‘

ریشماں کو نئے قانون کی خبر نہیں۔ وہ تو خود جو تکلیف دیکھ چکی ہیں اپنی بیٹی کو کسی صورت اس سے گزارنا نہیں چاہتیں۔

ریشماں کہتی ہیں: ’میری بیٹی ابھی ٹھیک طرح بڑی بھی نہیں ہوئی اور خاندان میں لوگ اس کا رشتہ مانگ رہے ہیں، لیکن میں نے کسی کو ہامی نہیں بھری۔‘

سندھ کے علاوہ پاکستان کے باقی صوبوں میں ابھی بھی کم عمری کے شادی کا پرانا قانون رائج ہے جو برطانوی راج کے دوران سنہ 1929 میں بنایا گیا۔ اس کے تحت خلاف ورزی پر محض ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں