کراچی میں ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپہ

  • 25 ستمبر 2014
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کے تبادلے کے بعد کراچی میں رینجرز کی یہ پہلی کارروائی ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دفتر پر نیم فوجی دستے رینجرز نے چھاپہ مار کر 35 سے زائد کارکنوں اور ہمدردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

رینجرز کے ترجمان نے اس خبر پر کوئی تبصرہ یا تصدیق نہیں کی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی اور صوبائی وزیر فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ رینجرز نے پی ایس 126 کے دفتر پر چھاپہ مار کر یہ گرفتاریاں کی ہیں اور گرفتار ہونے والوں میں نوجوان اور بزرگ بھی شامل ہیں۔

لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے مختلف نجی ٹی وی چینلوں سے بات کرتے ہوئے کراچی میں اپنی جماعت کے دفتر پر رینجرز کے چھاپے کی شدید مذمت کی۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے الطاف حسین نے پاکستانی فوج کی حمایت میں ماضی میں کیے جانے والے اقدامات اور فوج کے سابق سربراہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا باب بند ہونے سے متعلق مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا: ’فوج کا کام تنظیموں کو توڑنا اور تنظیموں میں گروپ بندی کرنا نہیں ہے، جنرل راحیل صاحب فوج کو ان حرکتوں اور سیاست سے نکال لیجیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ MQM
Image caption ’فوج کو سیاست سے نکال لیجیے‘

اس سے پہلے صوبائی وزیر فیصل سبزواری نے چھاپے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ عید قربان کے موقعے پر کھالیں جمع کرنے کے بارے میں ان کا ورکرز اجلاس جاری تھا جس میں اراکین اسمبلی اور رابطہ کمیٹی نے بھی شرکت کرنی تھی لیکن رینجرز نے بلا جواز چھاپہ مارکر گرفتاریاں کی ہیں۔

’دہشت گرد اراکان اسمبلی کے دفاتر میں نہیں ہوتے، اس طرح کی کارروائیوں سے ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔‘

فیصل سبزواری چھاپے والی جگہ موجود تھے، جہاں خواتین بھی اکٹھی ہو گئیں تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ بے گناہ کارکنوں اور ہمدردوں کو رہا کیا جائے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے ایک اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹیریٹ لندن ٹیلیفون کر کے رابطہ کمیٹی کے ارکان ڈاکٹر فاروق ستار اور سینیٹر بابر غوری سے بات کی اور ایم کیوایم کے سیکٹر آفس پر رینجرز کے چھاپے کی تفصیلات معلوم کیں۔

اعلامیے کے مطابق’ڈاکٹر فاروق ستار اور بابر غوری نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع ایم کیو ایم کے سیکٹر آفس پر کارکنان کے اجلاس کے دوران رینجرز نے بلاجواز چھاپہ مارا اور 40 سے زائد کارکنان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گرفتارکر لیا، چھاپے کے دوران رینجرز کے اہلکاروں نے فائرنگ کی اور سیکٹر آفس میں توڑ پھوڑ کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رینجرز کے ترجمان نے کوئی تبصرہ یا تصدیق نہیں کی

بقول ایم کیو ایم کے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ایک مرتبہ پھر ایم کیوایم کے خلاف ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کر کے پرامن عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹرفاروق ستار اور بابرغوری نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے کہا کہ وہ ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی مظالم کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، ظالمانہ کارروائی کا سلسلہ فی الفور بند کرائیں اور بے گناہ گرفتار شدگان کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے ایم کیوایم کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری رابطہ کر کے گرفتار کارکنان کی رہائی کے لیے ہرممکن کردار ادا کریں گے۔

سندھ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل کے تبادلے کے بعد کراچی میں رینجرز کی یہ پہلی کارروائی ہے۔ واضح رہے کہ ڈی جی رینجرز جنرل رضوان اختر کو ترقی کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا ہے جبکہ جنرل بلال اکبر کو ڈی جی رینجرز کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اسی بارے میں