ریپ کے مقدمے میں ملزم کو تین بار سزائے موت

  • 25 ستمبر 2014
تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف متعدد بار مظاہرے ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع سبی کی ایک عدالت نے پانچ سالہ ہندو بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کا جرم ثابت ہونے پر ایک شخص کو تین مرتبہ سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

انجیل کمہاری نامی اس ہندو بچی کو اس سال22 جنوری کو سبی شہر سے اغوا کیا گیا تھا۔

’پاکستان میں ریپ کے مقدمات میں سزاؤں کی شرح صفر‘

اغوا کے بعد بچی کو انتہائی تشویشناک حالت میں پھینک دیا گیا تھا۔ چند روز بعد بچی کی ہسپتال میں دوران علاج موت واقع ہو گئی تھی۔

بچی کی پوسٹ مارٹم کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بچی کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کے باعث علاقے میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

سبی پولیس نے اس سلسلے میں ایک ملزم سنی مسیح کو گرفتار کیا تھا۔ ملزم کے خلاف بچی کو اغوا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے علاوہ قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سماعت مکمل ہونے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی راشد محمود نے مقدمے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

بدھ کو مقدمے پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے سنی مسیح کو جرم کا مرتکب پایا۔ عدالت نے مختلف مقدمات میں ملزم کو تین مرتبہ سزائے موت اور چھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

رواں سال جون میں پاکستان میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون کو وزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ گذشتہ پانچ برس میں ریپ کے مقدمات میں سزائیں دیے جانے کی شرح صفر رہی ہے۔

اسی بارے میں