کراچی میں ایم کیو ایم کے دھرنے، اسمبلی کا بائیکاٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعرات سے شروع ہوگیا ہے، جس کا متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ کر دیا

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے دفاتر پر چھاپوں اور کارکنوں کی حراست کے خلاف شہر میں آٹھ سے زائد مقامات پر دھرنے دیے جا رہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم نے بطور احتجاج سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے صبح سے وزیر اعلیٰ ہاؤس سمیت رضویہ، لیاقت آباد، لانڈھی، کلفٹن تین تلوار، نمائش چورنگی، شاہراہِ فیصل، گلشن اقبال، اور ناگن چورنگی پر دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

ان دھرنوں اور گرفتاریوں کے باعث شہر میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، اکثر نجی سکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ کچھ مقامات پر پیٹرول پمپ بند ہیں اور جن علاقوں میں کھلے ہیں وہاں گاڑیوں کی قطاریں نظر آرہی ہیں۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی اور صوبائی وزیر فیصل سبزواری نے کہا تھا کہ رینجرز نے ان کے پی ایس 126 کے دفتر پر چھاپہ مار کر تقریباً 40 افراد گرفتار کیے ہیں جن میں نوجوان اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ عید قربان کے موقعے پر کھالیں جمع کرنے کے سلسلے میں جمع ہوئے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق رینجرز کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ گشت پر مامور رینجرز اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد 23 شرپسندوں کو حراست میں لیا گیا جن میں سے پوچھ گچھ کے بعد نو کو رہا کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ایک اعلامیے میں کہا کہ ایم کیو ایم برسوں سے ’انتہا پسند دہشت گردوں‘ کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں اور اقدامات میں علی الاعلان فوج اور پیراملٹری فورسز کی حمایت کرتی چلی آئی ہے۔

’ہرقسم کے متنازع مسائل پر جہاں فوج کی آن، بان، شان اور ساکھ کو نقصان پہنچتا ہو وہاں کھل کر دلائل کے ساتھ فوج کا ساتھ دیتی ہے لیکن فوج اور پیراملٹری رینجرز میں کچھ کالی بھیڑیں ایسی موجود ہیں جن کا دین دھرم اور ایمان مہاجر دشمنی پر مبنی ہے اور وہ مہاجر نوجوانوں کو گرفتار کر کے، انھیں ماورائے عدالت قتل کر کے لاشیں سڑکوں پر پھینکنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔‘

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ’میں ان افسوس ناک واقعات کی رپورٹیں فوج، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اعلیٰ حکام کو بذریعہ اپنے بیانات اور تقاریر پہنچاتا رہا ہوں لیکن افسوس کہ فوج کے جوان، پیرا ملٹری رینجرز 19 جون 1992 کی یاد غیر قانونی چھاپے، گرفتاریاں اور ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کر کے وقتاً فوقتاً مناتے رہتے ہیں۔‘

دوسری جانب سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعرات سے شروع ہوگیا ہے، جس کا متحدہ قومی موومنٹ نے بائیکاٹ کر دیا، جبکہ ایم کیو ایم کے سربراہ کی جانب سے سندھ میں مزید انتظامی یونٹوں کے قیام کے مطالبے کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے پر مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ن کے اراکین نے اجلاس کا علامتی بائیکاٹ کیا۔

اپوزیشن جماعتوں کی غیر موجودگی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی انتظامی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کی گئی، جس میں ایم کیو ایم یا اس کی سربراہ الطاف حسین کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ باب الاسلام ہے، پاکستان کی بنیاد اسی اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے رکھی گئی، قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف سندھ میں پیدا ہوئے بلکہ انھوں نے اس ایوان کی صدارت کی۔

قرارداد کے مطابق دستور پاکستان میں نئے صوبے کے قیام کا طریقہ کار موجود ہے، کوئی بھی جماعت یا اتحاد قومی اور صوبائی اسمبلی میں دو تہائی تین اکثریت حاصل کر لے تو وہ نئے صوبے کا قیام کا مطالبہ کر سکتی ہے، سندھ ایک خود مختار صوبہ رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ ’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘ کے نعروں کے ساتھ یہ قرار داد منظور کر لی گئی۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا تھا کہ پاکستان بشمول سندھ میں مزید انتظامی یونٹ بنائے جائیں تاکہ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں آسانی ہو۔

اسی بارے میں