توہینِ مذہب کا مجرم پولیس اہلکار کی فائرنگ سے زخمی

  • 25 ستمبر 2014
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائرنگ کرنے والے اہلکار یوسف کا تعلق ایلیٹ فورس سے ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جیل پولیس کے ایک اہلکار نے جیل میں سزائے موت کے پاکستانی نژاد برطانوی مجرم کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا۔

مقامی پولیس کے مطابق زخمی مجرم راجہ اصغر علی کو راولپنڈی کی ایک عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی تھی۔

تھانہ صدر بیرونی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اصغر علی جیل میں اپنی بیرک میں موجود تھے کہ جیل کی ایلیٹ فورس کے اہلکار ملزم یوسف نے وہاں جا کر ان پر فائرنگ کر دی۔

اہلکار کے مطابق فائرنگ کی آواز سن کر سکیورٹی پر تعینات دیگر اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور ملزم پر قابو پا لیا اور اس سے اسلحہ لے لیا۔

راجہ اصغر کو زخمی حالت میں جیل کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اُن کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔

جیل کی انتظامیہ کے مطابق ملزم یوسف ایلیٹ فورس کے اُن اہلکاروں میں شامل ہیں جنھیں جیل کے اندر کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

ادھر مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اُنھیں اس بارے میں جیل کی انتظامیہ نے کوئی اطلاع نہیں دی تھی کہ ایلیٹ فورس کے کتنے اہلکاروں کو جیل کے اندر حفاظتی نقطۂ نظر سے تعینات کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق راجہ اصغر کو راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے ایک مقدمے میں موت کی سزا سُنائی تھی تاہم مجرم نے اس عدالتی فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق وقوعہ کے روز ملزم یوسف کی ڈیوٹی نہیں تھی اور وہ ایک منصوبے کے تحت سرکاری پستول اور خنجر لے کر جیل کے اندر داخل ہوا اور راجہ اصغر پر فائرنگ کر دی۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے متعلقہ تھانے کی بجائے سول لائن پولیس سٹیشن میں منتقل کر دیا ہے اور تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اس کے علاوہ اس معاملے کی بھی چھان بین کی جارہی ہے کہ ملزم نے یہ اقدام کسی کے کہنے پر کیا ہے یا اس کا ذاتی فعل ہے۔

اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ مشتاق اعوان کا کہنا تھا کہ اب تک کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم جیل کی ایلیٹ فورس کے اہلکار محمد یوسف کی مجرم راجہ اصغر سے بظاہر کوئی ذاتی رنجش نہیں تھی اور اس ضمن میں تمام باتیں تفتیش میں آ جائیں گی۔

یاد رہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل میں موت کی سزا پانے والے پنجاب پولیس کے اہلکار ممتاز قادری بھی اڈیالہ جیل ہی میں قید ہیں۔

سلمان تاثیر کو تین سال قبل اُن کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار نے اسلام آباد میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ وقوعہ سے چند روز پہلے شیخوپورہ جیل میں توہینِ مذہب میں موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی سے ملاقات کر کے آئے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرم ممتاز قادری کی موت کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے جس کی بعد وفاقی حکومت کی طرف سے عدالت عالیہ کے اس حکم نامے کے خلاف ابھی تک کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں