وزیرستان: پاکستان اور امریکہ کے فضائی حملوں میں 17 ہلاک

Image caption اس حملے میں کافی عرصے بعد جنوبی وزیرستان ایجنسی کو نشانہ بنایا گیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیارے کے حملے اور شمالی وزیرستان میں پاکستان فضائیہ کی بمباری سے متعدد غیر ملکیوں سمیت سترہ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق امریکہ ڈورن حملہ اتوار کو جنوبی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام وانا میں ہوا۔

ادھر پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات شمالی وزیرستان میں پاکستان جیٹ طیاروں کی بمباری سے پندرہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق شمالی وزیرستان میں شوال کے علاقے میں بمباری میں شدت پسندوں کے پانچ ٹھکانے تباہ کیےگئے ۔ اس حملوں میں پندرہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جس میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق اتوار کے روز امریکی جاسوس طیاروں نے وانا میں ایک گاڑی کو میزائل سے نشانہ بنایا جن میں اطلاعات کے مطابق غیر ملکی شدت پسند سوار تھے۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے وانا بازار کے قریب ہی اپنی گاڑی ایک مکان کے نزدیک کھڑی کی تو ان پر میزائل داغا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ مکان کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد غیرملکی بتائے جاتے ہیں تاہم ان کی قومیت کے بارے میں مصدقہ معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

پاکستان میں اس سال 11 جون کو ایک طویل تعطل کے بعد ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا اور یہ رواں برس امریکی جاسوس طیاروں کا یہ آٹھواں حملہ ہے۔

اہم امر یہ ہے کہ اس حملے میں کافی عرصے بعد جنوبی وزیرستان ایجنسی کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اس سے قبل رواں برس ڈرون طیارے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں رواں برس 15 جون سے فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیاگیا تھا اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے بیشتر شدت پسند پاک افغان سرحدی علاقوں کی جانب منتقل ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں