بلوچستان میں پرتشدد واقعات، چھ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایس ایس پی صدر نے پولیس اہلکار کی ہلاکت کو ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قراردیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے مزید دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں جبکہ تشدد کے دو دیگر واقعات میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق ضلع خضدار سے تشدد زدہ لاش نال گریشہ کے علاقے سے جبکہ کیچ میں پیدراک کے علاقے سے ملی ہے۔

کیچ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پیدراک سے ملنے والی لاش کی شناخت ہوئی ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے شخص کا تعلق پیدراک سے ہی ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک کیے جانے والے شخص کو گزشتہ روز ان کے دو بھائیوں کے ہمراہ اغوا کیا گیا تھا۔ مقتول کے ساتھ اغوا کیے جانے والے اس کے ایک بھائی کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتہ ہے۔

واضح رہے کہ پیدراک سے چند روز قبل بھی دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی تھیں۔

دوسری جانب قلات انتظامیہ کے مطابق ضلع قلات میں تین افراد کو نامعلوم افراد نے ہلاک کیا ہے۔ قلات انتظامیہ کے مطابق تینوں افراد کی ہلاکت کا واقعہ ضلع کے علاقے پارود میں پیش آیا۔

پیر کی صبح پولیس کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں سب انسپیکٹر عبد الرحیم کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔

ایس ایس پی صدر پولیس محمود نوتیزئی نے بتایا کہ عبد الرحیم ایئرپورٹ پولیس سٹیشن کوئٹہ میں ایڈیشنل ایس ایچ او تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ایس ایچ او عبدالرحیم صبح اپنی گاڑی میں کوئٹہ شہر کی جانب آررہے تھے جب نامعلوم افراد نے کچلاک میں ان پر فائرنگ کی۔

فائرنگ سے پولیس اہلکار کے سینے میں پانچ گولیاں لگیں جو کہ ان کی ہلاکت کا باعث بنیں۔ ایس ایس پی صدر نے پولیس اہلکار کی ہلاکت کو ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قراردیا۔

دریں اثنا حکومت بلوچستان نے کوئٹہ میں دو صحافیوں سمیت میڈیا سے تعلق رکھنے والے تین افراد کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی ٹریبونل قائم کیا ہے۔

میڈیا سے تعلق رکھنے والے ان اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ 28 اگست کو کوئٹہ شہر میں پیش آیا تھا۔

ہلاک ہونے والوں میں خبر رساں ادارے آن لائن کے بیورو چیف ارشاد مستوئی، زیر تربیت صحافی عبدالرسول اور ادارے کے ایک اور ملازم شامل تھے۔

صحافیوں کی تنظیم بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یوجے) کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اب تک میڈیا سے تعلق رکھنے والے 40 کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم 28 اگست کو یہ پہلا واقعہ تھا کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے تین کارکنوں کو ان کے دفتر کے اندر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد ہاشم کاکڑ پر مشتمل جو ڈیشل کمیشن قائم کر دیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن دہشت گردی کے اس واقعہ کے تمام پہلوؤں اور محرکات کاجائزہ لے رپورٹ پیش کرے گا۔ جوڈیشل کمیشن 30دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔