وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف ایک اور ایف آئی آر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج کے حکم پر درج کیا گیا ہے

اسلام آباد پولیس نے وزیر اعظم میاں نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سمیت 11 افراد کے خلاف ریڈ زون میں واقع ڈی چوک پر پولیس کارروائی کے دوران ہلاکتوں کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس مقدمے میں قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج کے حکم پر درج کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عدالت نے یہ حکم پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر دیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 31 اگست اور یکم ستمبر کو پرامن مظاہرین پر پولیس کی کارروائی کے دوران اُن کی جماعت کے چار کارکن ہلاک ہوئے تھے۔

اسلام آباد میں اسی واقعے کے تحت وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر افراد کے خلاف یہ دوسرا مقدمہ ہے۔ اس سے پہلے دھرنا دینے والی دوسری جماعت پاکستان عوامی تحریک کی درخواست پر بھی وزیر اعظم اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پاکستان عوامی تحریک کا موقف تھا کہ پولیس کی کارروائی میں اُن کے تین کارکن ہلاک ہوئے تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کی درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے سے متعلق درخواست مسترد کر دی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے، لہٰذا اس ضمن میں الگ سے درخواست دی جائے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی ابتدائی سماعت کی۔

درخواست گُزاروں کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کہا تھا کہ اُنھوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے والی جماعتوں کے قائدین سے مذاکرات کے لیے فوج کو کردار ادا کرنے کو نہیں کہا تھا بلکہ عمران خان اور طاہرالقادری کی آرمی چیف سے ملاقاتیں ان دونوں لیڈروں کی خواہشات پر ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 31 اگست کو پارلیمان کے سامنے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی تھی

درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے وزیر اعظم کے ان بیان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف کو مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے قوم کے ساتھ جھوٹ بولا ہے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ میاں نواز شریف کی قومی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کر کے الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ وہ وزیر اعظم کی نشست کو ڈی نوٹیفائی کر دیں۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لیے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکی دیا جائے۔

تاہم بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل کی استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ اس ضمن میں الگ درخواست سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو دی جائے۔ ان درخواستوں کی سماعت دو اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں