کراچی میں اہلسنت و الجماعت کا دھرنا جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دھرنے کی وجہ سے شہر کے مرکزی علاقے میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے

کراچی میں اہلسنت و الجماعت کا کارکنوں کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف شہر کی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دوسرے دن بھی جاری ہے۔

وسطی شہر کے علاقے گرومندر چوک پر منگل کی دوپہر سے یہ دھرنا دیا گیا تھا اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تنظیم کے لاپتہ کارکنوں کو بازیاب کرایا جائے۔

دھرنے میں شریک کارکن ٹارگٹ کلنگ کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔

کمشنر کراچی اور پولیس حکام نے اہلسنت و الجماعت کی قیادت سے رابطہ کیا ہے لیکن رہنماؤں نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اہلسنت و الجماعت کے مرکزی رہنما اورنگزیب فاروقی کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہڑتال کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

اورنگزیب فاروقی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے کارکن شاہد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے دکان سے اٹھانے کے پانچ روز بعد قتل کر دیا اور واقعے کو پولیس مقابلہ ظاہر کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ اس جعلی مقابلے میں ملوث ایس ایچ او پر قتل کا مقدمہ درج کر کے اسے حراست میں لیا جائے۔‘

تنظیم کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ان کے دس کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے جبکہ 16 کے قریب کارکن لاپتہ ہیں جن کی تفصیلات انتظامیہ کو فراہم کردی گئی ہیں۔

اورنگزیب فاروقی کے مطابق ’یہ کارکن گھروں، دکانوں، راہ چلتے ہوئے اور چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر کے اٹھائے جاتے ہیں، لیکن کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے۔‘

کراچی میں گزشتہ ایک سال سے رینجرز اور پولیس کا ٹارگٹ کلنگز، بھتہ خوری اور فرقہ وارانہ شدت پسندی کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے۔

اس بارے میں اورنگزیب فاورقی کا کہنا ہے کہ وہ حکام کو کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کا کوئی کارکن مطلوب ہے تو انہیں بتایا جائے وہ خود اس کو پیش کرنے کے لیے تیار ہیں: ’اس سے تفتیش کر لیں، اگر مجرم ثابت ہو تو بیشک سزا دیں لیکن یہ تو انصاف نہیں ہے کہ کارکنوں کو اپنے طور پر پکڑ رہے ہیں اور مار رہے ہیں۔‘

گرومندر کے قریب اس دھرنے کی وجہ سے لسبیلہ ، تین ہٹی، جیل چورنگی، سولجر بازار اور ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

اسی علاقے میں شیعہ برادری کی مرکزی امام بارگاہ شاہ خراساں اور امام بارگاہ علی رضا بھی واقع ہے، جہاں سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شیعہ برادری نے ہی ٹارگٹ کلنگز او دھماکوں میں ہلاکتوں کے بعد ایم اے جناح روڈ پر واقع نمائش چورنگی پر دھرنے دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کے بعد کئی سیاسی و مذہبی جماعتیں اس مقام پر دھرنے دیتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں