تین عیدوں کی ’نئی‘ روایت

عیدا الضحیٰ کی قربانی کے بکرے تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قربانی کے لیے کھڑی بھیڑوں کو رنگ لگا کر بیچا جا رہا ہے

پاکستان میں دو عیدیں منانے کی روایت تو بہت پہلے سے موجود ہے تاہم ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی ملک میں تین عیدیں منائی گئی ہوں لیکن اس مرتبہ سرکاری اور غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کی جانب سے تین عیدیں منانے کے اعلانات کیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں حسب معمول افغان پناہ گزین اورفاٹا کی بیشتر آبادی سنیچر کو سعودی عرب کے ساتھ عید الاضحٰی منا رہی ہے جبکہ مسجد قاسم علی خان پشاور کی غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی نے اتوار کو عید منانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم مفتی منیب الرحمان کی سربراہی میں قائم مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اس مرتبہ غیر متوقع طور پر پیر کو ملک بھر میں عید منانے کا اعلان کیا ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جس دن سعودی عرب میں عید منائی جاتی ہے اس کے دوسرے دن پاکستان میں سرکاری طورپر عید منانے کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ اس میں دو دن کا فرق آ رہا ہے یعنی سعودی عرب میں سنیچر کو اور پاکستان میں سرکاری طورپر پیر کو بقر عید منانے کا اعلان کیا گیا ہے جس پر کئی سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے سابق ڈین برائے اسلامک سٹڈیز ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ عید جیسے اسلامی تہوار کے موقع پر ہر سال قوم کو تقسیم کیا جاتا ہے اور اس کے لیے حکومتی اور غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیاں دونوں برابر کی ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کرنا خالصاً سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا کام ہے اور اس سلسلے میں کسی غیر سرکاری کمیٹی کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے طور پر عید کا اعلان کردے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت نے جن لوگوں کے ذمے یہ کام لگایا ہوا ہے وہ بھی دیانت داری کے ساتھ اسے پورا نہیں کر رہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے بھی جلد بازی سے کام لیا جس کی وجہ سے دو کی بجائے تین عیدیں منائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک غیر معمولی حالات سے گز رہا ہے اور ہر طرف دہشت گردی نے ملک کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے تمام مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ کو برداشت سے کام لینا چاہیے اور رویت کے معاملے میں تفرقے اور ہٹ دھرمی سے گریز کرنا چاہیے۔

تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب تک رویت کے فیصلے کا اختیار مذہبی عناصر اور علماء کرام کے پاس رہے گا یہ ہمیشہ سے متنازع ہی رہے گا۔ ان کے مطابق چاند دیکھنے کے معاملے کا بہترین حل ایسی صورت میں ممکن ہے کہ یا تو تمام غیر سرکاری ہلال کمیٹیوں پر پابندی لگانی چاہیے یا یہ کام ماہرین فلکیات کے حوالے کیا جائے تاکہ یہ تنازع ہمیشہ ہمیشہ کےلیے حل ہو جائے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومت کا کردار بھی ہمیشہ سے نرم رہا ہے جس کی وجہ سے غیر سرکاری کمیٹیوں اور مذہبی عناصر کو من مانی کا موقع ملتا رہا ہے۔

اسی بارے میں