’گو نواز گو‘ کا نعرہ ہائی کورٹ میں چیلینج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’گو نواز گو‘ کے نعرے نے گذشتہ چند ہفتوں میں کافی مقبولیت حاصل کی ہے

لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ایک درخواست میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف لگائے جانے والے ’گو نواز گو‘ کے نعرے کو معاشرے میں انتشار کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

’گو نواز گو‘ کا نعرہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے رہنماوں نے اپنی احتجاجی تحریک کے دوران بلند کیا جو کہ اب خاصا مقبول ہوچکا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’گو نواز گو‘ کا نعرہ پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکن مختلف سرکاری تقریبات اور غیر سرکاری اجتماعات میں لگا رہے ہیں۔

درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ کہ جگہ جگہ دیواروں پر یہ نعرہ لکھا گیا ہے جس سے مسلم ن لیگ کے کارکنوں کے جذبات مجروع ہورہے ہیں اور عوامی مقامات پر ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

درخواست میں پاکستان تحریک ، آئی جی پنجاب اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں فریق بنایا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو حکم دیں کہ وہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو پابند کریں کہ یہ نعرہ بلند نہ کیاجائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار لامحدود نہیں اور ایسے فعل جن سے معاشرے میں بےچینی اور انتشار پھیلے اس سے گریز کرنا ضروری ہے۔

’گو نواز گو‘ کے نعرے نے گذشتہ چند ہفتوں میں کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ نعرے ن لیگی وزرا اور قیادت کی تقریبات میں لگائے جاچکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ جلسوں میں ’گو نوازگو‘ کا نعرہ ایک روایتی نغمے کی دھن پر مسلسل لگوایا گیا جس کے بعد یہ نعرہ زبان زدِ عام ہو چکا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما علامہ طاہرالقاردی بھی اپنے کارکنوں کو لوڈشیڈنگ ہونے پر بھی یہ نعرہ لگانے کی تلقین کرچکے ہیں۔

علامہ طاہرالقاردی کی جانب سے کرنسی نوٹوں پر بھی گو نوازگو لکھنے کی تحریک کا آغاز کیا گیا تھا۔

تاہم سٹیٹ بینک کی اس وضاحت کے بعد کے ’گو نواز گو‘ کے نعرے والے نوٹ قابل استعمال نہیں ہوں گے علامہ طاہرالقاردی نے اس تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں